Wa laa aqoolu lakum `indee khazaa`inul laahi wa laaa a`lamul ghaiba wa laa aqoolu inee malakunw wa laaa aqoolu lillazeena tazdareee a`yunukum lai yu`tiyahumul laahu khairan Allaahu a`lamu bimaa feee anfusihim innee izal laminaz zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به شما نمىگويم كه خزاين خدا در نزد من است. و علم غيب هم نمىدانم. و نمىگويم كه فرشته هستم. و نمىگويم كه خدا به آنان كه شما به حقارت در آنها مىنگريد خير خود را عطا نكند. خدا به آنچه در دلهاى آنهاست آگاهتر است. اگر چنين كنم، از ستمكاران خواهم بود.
خَزَائِنُ اللہِ: اللہ کے خزانے، یعنی رزق اور وسائل کے ذخیرے۔
تَزْدَرِی: حقیر جاننا، تحقیر کرنا۔
أَعْیُنُکُمْ: تمہاری آنکھیں، یعنی تمہاری نگاہ میں۔
لَن یُؤْتِیَهُمُ اللہُ خَیرًا: اللہ انہیں کوئی بھلائی نہیں دے گا۔
الظَّالِمِینَ: ظلم کرنے والے، حق سے تجاوز کرنے والے۔
تفسیر:
حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے سرداروں اور بڑے لوگوں سے فرما رہے ہیں جنہوں نے ایمان لانے والے غریب اور کمزور لوگوں کو حقیر جانا اور ان پر الزام لگایا کہ یہ لوگ تمہارے پیچھے کیوں لگ گئے؟ نوح علیہ السلام ان کے اس رویے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، جن سے میں تمہیں مال و دولت دے سکوں۔ نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، تاکہ تمہیں مستقبل کی خبریں سنا سکوں۔ نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، بلکہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں، اللہ کا بھیجا ہوا رسول۔ اور نہ میں ان مومنوں کے بارے میں جو تمہاری نگاہوں میں ذلیل اور حقیر ہیں، یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ انہیں کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ یہ بات صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے، ان کی نیتوں اور اعمال کا حال وہی خوب جانتا ہے۔ اگر میں ان کے بارے میں ایسی بات کہوں جو میرے علم میں نہیں، یا انہیں حقیر جانوں، تو میں ظالموں میں سے ہو جاؤں گا، کیونکہ یہ ان پر ظلم اور اللہ کے علم پر جھوٹ باندھنا ہوگا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی بھی انسان کو اس کی ظاہری حالت کی بنا پر حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ مال، دولت یا سماجی مقام۔ ایمان والے غریب اور کمزور لوگ اللہ کے ہاں بہت محبوب ہو سکتے ہیں، جبکہ دنیا کے بڑے اور مالدار لوگ اللہ کے ہاں ذلیل ہو سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھیں، ان کی نیتوں کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں، اور کبھی کسی کو اس کے ظاہری حالات کی وجہ سے حقیر نہ جانے۔ یہی توحید اور عدل کا تقاضا ہے، اور یہی رسولوں کا طریقہ ہے۔ اللہ ہمیں اپنے بندوں کے ساتھ حسن ظن اور عدل کا معاملہ کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔