انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا تو کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا۔ لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لا نازل کرو
📜
ترجمہ — Tafsir
قومِ نوح علیہ السلام نے اپنی سرکشی اور ضد کی بنا پر کہا: اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت زیادہ بحث مباحثہ کیا، تم ہمیں اپنی دعوت میں الجھاتے رہے۔ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔
یہ قومِ نوح کی انتہائی سرکشی اور استہزاء تھی۔ وہ نہ صرف حق کو قبول کرنے سے انکاری تھے بلکہ اللہ کے نبی کو چیلنج کر رہے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو عذاب لا کر دکھاؤ۔ یہ ان کی جہالت اور تکبر کی انتہا تھی کہ وہ عذابِ الٰہی کو مذاق سمجھ رہے تھے۔
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حق بات کہنے والوں کو ہمیشہ مخالفت اور استہزاء کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن صبر اور اللہ پر بھروسہ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں اور وہ اپنے نیک بندوں کی مدد ضرور کرتا ہے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔