یوسف · 24/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَن رَّأَىٰ بُرْهَانَ رَبِّهِ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ۝٢٤
Wa laqad hammat bihee wa hamma bihaa law laaa ar ra-aa burhaana rabbih;; kazaalika linasrifa `anhu sooo`a walfa hshaaa`; innahoo min `ibaadi nal mukhlaseen
📖 اردو ترجمہ
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • هَمَّتْ بِهِ: اس کی طرف مائل ہوئی، اس سے تعلق قائم کرنے کا ارادہ کیا۔
  • هَمَّ بِهَا: اس کے دل میں خیال گزرا (لیکن فعل کا ارتکاب نہیں کیا
  • بُرْهَانَ رَبِّهِ: اپنے رب کی طرف سے دلیل و علامت (جو اسے روکنے والی تھی
  • السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ: برائی اور بے حیائی کا کام (زنا
  • الْمُخْلَصِينَ: خالص کئے گئے بندے، جنہیں اللہ نے اپنی عبادت اور رسالت کے لیے چن لیا۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یوسف علیہ السلام کے اس عظیم واقعے سے آگاہ کرتا ہے جو ان کی پاکیزگی اور تقویٰ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جب عزیزِ مصر کی بیوی نے یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف بلایا اور دروازے بند کر دیے، تو اس کی نفس نے برائی کا ارادہ کیا اور وہ پوری طرح اس فعل کی طرف مائل ہو گئی۔ یوسف علیہ السلام کے دل میں بھی فطری طور پر وہ خیال گزرا جو ہر انسان کے جبلت میں ہوتا ہے، لیکن یہ صرف ایک خیال تھا، ارادہ نہیں۔ انہوں نے اس خیال کو دبانے کی کوشش کی اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک واضح برہان (دلیل) دکھائی جو انہیں اس گناہ سے روکنے کے لیے کافی تھی۔ یہ برہان اللہ کی قدرت کی ایک نشانی تھی جس نے ان کے دل میں خوفِ الٰہی اور تقویٰ کو بیدار کر دیا۔ یوسف علیہ السلام نے فوراً اس خیال کو رد کر دیا اور اللہ کی پناہ مانگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں یہ برہان اس لیے دکھایا تاکہ ان سے برائی اور بے حیائی کو دور کریں۔ یہ اللہ کی خاص رحمت تھی جو ان کے اخلاص اور تقویٰ کی وجہ سے ان پر نازل ہوئی۔

یوسف علیہ السلام ان بندوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے اپنی عبادت کے لیے خالص کر لیا تھا۔ ان کا دل اللہ کی محبت سے بھرا ہوا تھا، اس لیے انہوں نے گناہ کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بندہ اللہ کے لیے اپنے نفس کو خالص کر لیتا ہے، تو اللہ اسے گناہوں سے بچانے کے لیے خاص مدد فراہم کرتا ہے۔ گناہ کا خیال آنا کوئی جرم نہیں، لیکن اس پر عمل کرنا جرم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب دل میں برائی کا خیال آئے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگیں اور اس کی طرف رجوع کریں۔

یہ واقعہ ہر مسلمان کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ تقویٰ اور اخلاص ہی وہ مضبوط ڈھال ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے۔ اگر ہم اللہ پر بھروسہ کریں اور اس کی اطاعت کریں، تو وہ ہمیں ہر مشکل میں راستہ دکھائے گا اور ہمیں برائیوں سے محفوظ رکھے گا۔ یوسف علیہ السلام کی پاکیزگی نے انہیں دنیا میں بھی عزت دی اور آخرت میں بھی بلند مقام عطا کیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔



📜 آیت 22-26 — یوسف

22وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
23وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ ۖ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
24وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَن رَّأَىٰ بُرْهَانَ رَبِّهِ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
25وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا إِلَّا أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
26قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
24آیت

ترجمہ — یوسف 24

سورہ یوسف آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں…

سورہ آیت 24/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں