Wastabaqal baaba wa qaddat qameesahoo min dubu rinw wa alfayaa saiyidahaa ladal baab; qaalat maa jazaaa`u man araada bi ahlika sooo`an illaaa any-yusjana aw azaabun aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هر دو به جانب در دويدند و زن جامه او را از پس بدريد. و شوى آن زن را نزديك در ديدند. زن گفت: جزاى كسى كه با زن تو قصد بدى داشته باشد چيست، جز اينكه به زندان افتد يا به عذابى دردآور گرفتار آيد؟
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ: دونوں (یوسف علیہ السلام اور زلیخا) دروازے کی طرف دوڑے۔
وَقَدَّتْ: اس نے (زلیخا نے) پھاڑ دیا۔
مِن دُبُرٍ: پیچھے کی طرف سے۔
أَلْفَيَا: دونوں نے پایا / دونوں کو ملا۔
سَیِّدَهَا: اس کا (زلیخا کا) خاوند (عزیزِ مصر)۔
سُوءًا: برائی، بدکاری (زنا)۔
عَذَابٌ أَلِيمٌ: دردناک سزا۔
تفسیر:
جب یوسف علیہ السلام نے زلیخا کے اصرار اور اس کے بند دروازوں کو دیکھا تو وہ دروازے کی طرف بھاگے تاکہ اس گناہ کے جال سے نکل جائیں، اور زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑی تاکہ انہیں روک سکے۔ اس نے ان کے قمیص کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا، جس سے قمیص پیٹھ کی طرف سے پھٹ گئی۔ اسی اثنا میں دونوں نے عزیزِ مصر کو دروازے کے پاس کھڑا پایا۔ زلیخا نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے الٹا الزام لگاتے ہوئے کہا: "جو شخص آپ کی بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا اسے دردناک سزا دی جائے؟" اس نے یہ بات اس لیے کہی تاکہ یوسف علیہ السلام کو سزا دلوا کر اپنے جرم کو چھپا سکے۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ پاکدامنی اور تقویٰ ہی اصل عزت ہے۔ یوسف علیہ السلام نے گناہ کے دروازے سے بھاگنے کی کوشش کی، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس آزمائش میں کامیاب فرمایا۔ آج بھی جو شخص گناہوں سے بھاگتا ہے اور اللہ کی پناہ مانگتا ہے، اللہ اسے عزت اور نجات عطا فرماتا ہے۔ یاد رکھیں، دنیا کی کوئی بھی آزمائش ہو، اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کبھی ذلیل نہیں ہوتے۔ یوسف علیہ السلام قید میں گئے لیکن ان کی پاکدامنی نے انہیں عزیزِ مصر بنا دیا۔ اللہ ہمیں بھی گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔