(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: هرگز او را با شما نمىفرستم، تا با من به نام خدا پيمانى ببنديد كه نزد منش بازمىآوريد. مگر آنكه همه گرفتار شويد. چون با او عهد كردند، گفت: خدا بر آنچه مىگوييم گواه است.
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَوْثِقًا: پختہ عہد و پیمان، قسم۔
لَتَأْتُنَّنِی: تم ضرور اسے میرے پاس واپس لاؤ گے۔
أَنْ یُحَاطَ بِکُمْ: یہ کہ تم سب گھیر لیے جاؤ (یعنی تم پر کوئی ایسی آفت آجائے کہ تم مغلوب ہو جاؤ اور کچھ نہ کر سکو)۔
وَکِیلٌ: نگہبان، گواہ، کارساز۔
تفسیر:
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کی اس درخواست پر کہ وہ بنیامین کو ان کے ساتھ مصر بھیج دیں، فرمایا: "میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، جب تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد نہ دو کہ تم اسے ضرور میرے پاس واپس لاؤ گے، سوائے اس صورت کے کہ تم سب گھیر لیے جاؤ" یعنی اگر تم پر کوئی ایسی آفت آجائے جس میں تمہارا بس نہ چلے، جیسے موت یا اسیر ہو جانا، تو تم معذور ہو گے۔ ورنہ تمہیں اسے لے کر ہی آنا ہو گا۔
یہ عہد اس لیے تھا کہ پہلے یوسف علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہ کر سکے، اس لیے اب وہ زیادہ محتاط تھے۔ بیٹوں نے جب یہ سخت عہد و پیمان دے دیا، تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ ہماری اس بات پر گواہ اور نگہبان ہے" یعنی جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں، اللہ اس کا شاہد ہے، اور وہی ہمارے درمیان کافی نگران ہے۔
یہاں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اہم معاملات میں عہد و پیمان کو مضبوط کیا جائے، اور ہر معاملے میں اللہ کو گواہ بنایا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ والدین اپنی اولاد کی حفاظت اور بھلائی کے لیے کس قدر فکر مند ہوتے ہیں، اور اولاد کو چاہیے کہ والدین کے دل میں اطمینان پیدا کریں، ان کے ساتھ سچے اور وفادار رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگراں ہے، اور جو لوگ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں، اللہ ان کی مدد فرماتا ہے اور ان کے دلوں کو سکون عطا کرتا ہے۔
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔