یوسف · 65/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي ۖ هَٰذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ ۝٦٥
Wa lammaa fatahoo mataa `ahum wajadoo bidaa`atahum ruddat ilaihim qaaloo yaaa abaanaa maa nabghee; haazihee bida `atunaa ruddat ilainaa wa nameeru ahlanaa wa nahfazu akhaanaa wa nazdaadu kaila ba`eer; zaalika kailuny yaseer
📖 اردو ترجمہ
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مَتَاعَهُمْ: اپنا سامان، اناج کے تھیلے یا برتن۔
  • بِضَاعَتَهُمْ: وہ سرمایہ یا قیمت جو انہوں نے اناج خریدنے کے لیے دی تھی۔
  • رُدَّتْ إِلَيْهِمْ: واپس کر دی گئی۔
  • نَمِيرُ: ہم لے آئیں گے، خوراک مہیا کریں گے۔
  • كَيْلَ بَعِيرٍ: ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ۔
  • يَسِيرٌ: آسان، معمولی۔

تفسیر:

جب یوسف علیہ السلام کے بھائی مصر سے اپنا سامان لے کر واپس اپنے والد کے پاس پہنچے اور اپنے تھیلے کھولے تو دیکھا کہ جو قیمت انہوں نے اناج کے بدلے دی تھی، وہ انہیں واپس کر دی گئی ہے۔ یہ دیکھ کر ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور وہ حیرت سے بول اٹھے: "اے ہمارے والد! ہمیں اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے؟ یہ دیکھیے، ہماری پوری پونجی ہمیں واپس مل گئی ہے۔" انہوں نے اسے عزیز مصر (یوسف علیہ السلام) کی طرف سے ایک خاص عنایت اور مہربانی سمجھا۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے والد سے درخواست کی کہ اب آپ ہمیں اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ لے جانے کی اجازت دیں۔ انہوں نے اپنے والد کو مطمئن کرنے کے لیے کہا: "ہم اس سامان سے اپنے اہل و عیال کے لیے مزید خوراک لائیں گے، ہم اپنے بھائی کی مکمل حفاظت کریں گے، اور اس کے ساتھ جانے کی برکت سے ہمیں ایک اونٹ کا بوجھ اضافی غلہ بھی مل جائے گا۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ عزیز مصر کا یہ انداز بہت فراخ دلانہ ہے، وہ ہر شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیتا ہے، اور یہ مقدار ان کے لیے کوئی بڑی چیز نہیں، بلکہ اس کے لیے وہ بہت آسانی سے یہ اضافی غلہ دے دیتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے ایسے راستے کھولتا ہے جن کا انہیں گمان بھی نہیں ہوتا۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ساتھ نرمی اور درگزر کا معاملہ کیا، ان کی پونجی واپس کر کے ان کے دل جیت لیے۔ یہ اخلاقِ اسلامی کی اعلیٰ مثال ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی احسان کیا جائے، تاکہ محبت اور بھائی چارگی پیدا ہو۔ اس سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اولاد کو چاہیے کہ والدین سے نرمی اور محبت سے بات کریں، ان کے دل میں اعتماد پیدا کریں، اور ان کی فکروں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

یہاں بھائیوں کا یہ اندازِ گفتگو بھی قابلِ تعریف ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو راضی کرنے کے لیے نہ صرف عملی دلائل دیے بلکہ ان کی محبت اور فکر کا بھی خیال رکھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہم بنیامین کی حفاظت کریں گے، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، اور اس کے ساتھ ہمارے لیے خیر ہی خیر ہے۔ یہ انداز ہر مسلمان بھائی کو اپنانا چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نرمی، احترام اور حکمت سے پیش آئے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے بھائیوں کے ساتھ محبت اور ایثار کا راستہ دکھائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 63-67 — یوسف

63فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَىٰ أَبِيهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
64قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَا أَمِنتُكُمْ عَلَىٰ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
65وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي ۖ هَٰذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
66قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
67وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۖ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۖ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
65آیت

ترجمہ — یوسف 65

سورہ یوسف آیت 65 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ…

سورہ آیت 65/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 63–67. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں