یوسف · 67/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۖ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۖ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ۝٦٧
Wa qaala yaa baniyya laa tadkhuloo mim baabinw waa hidinw wadkhuloo min abwaabim mutafarriqah; wa maaa ughnee `ankum minal laahi min shai`in; inil hukmu illaa lillaahi `alaihi tawakkaltu wa `alaihi fal yatawakkalil Mutawakkiloon
📖 اردو ترجمہ
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مِن بَابٍ وَاحِدٍ: ایک ہی دروازے سے
  • مُتَفَرِّقَةٍ: الگ الگ، مختلف
  • مَا أُغْنِي: میں کچھ بھی ٹال نہیں سکتا
  • إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ: حکم صرف اللہ کا ہے

تفسیر:

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو جب مصر جانے کا ارادہ کیا تو انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "اے میرے بیٹو! تم سب ایک ہی دروازے سے شہر میں داخل نہ ہونا، بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔" یہ نصیحت انہوں نے اس لیے کی کیونکہ انہیں اپنے بیٹوں کی خوبصورتی اور شان و شوکت کی وجہ سے لوگوں کی نظرِ بد (نظر لگنے) کا اندیشہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس طرح ان کی پہچان نہ ہو اور وہ محفوظ رہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ "میں تمہارے لیے اللہ کی تقدیر کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔" یعنی یہ تدبیر صرف ایک ظاہری احتیاط ہے، لیکن اللہ نے جو کچھ لکھ دیا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا۔ کوئی تدبیر، کوئی حفاظتی اقدام اللہ کے فیصلے کو نہیں ٹال سکتا۔

پھر آپ نے اپنے بیٹوں کو توحید کا سبق دیتے ہوئے فرمایا: "حکم صرف اللہ کا ہے۔" یعنی تمام معاملات کا فیصلہ، تمام امور کی تدبیر، سب کچھ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے "میں نے اسی پر توکل کیا ہے" یعنی میں نے اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دیے ہیں، اور "اسی پر توکل کرنے والوں کو توکل کرنا چاہیے۔"

یہ ایک عظیم سبق ہے جو ہمیں اس آیت سے ملتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دنیاوی تدابیر اختیار کریں، لیکن دل میں یہ یقین رکھیں کہ اصل فیصلہ کرنے والا صرف اللہ ہے۔ تدبیر کرنا منع نہیں، لیکن توکل صرف اللہ پر ہونا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مومن کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ کرے گا، بہتر ہی کرے گا۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کی بھلائی کے لیے ہمیشہ فکر مند رہنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ اصل بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے۔ یہی ایمان کی بلندی ہے کہ انسان تدبیر بھی کرے اور توکل بھی رکھے۔ اللہ ہمیں اس کا عملی نمونہ اپنانے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 65-69 — یوسف

65وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي ۖ هَٰذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
66قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
67وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۖ وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۖ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
68وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِي عَنْهُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا ۚ وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
69وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّي أَنَا أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
67آیت

ترجمہ — یوسف 67

سورہ یوسف آیت 67 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل…

سورہ آیت 67/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 65–69. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں