ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- شیخًا کبیرًا: بوڑھا، عمر رسیدہ، ضعیف بزرگ۔
- فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ: اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو لے لو۔
- مِنَ الْمُحْسِنِينَ: احسان کرنے والوں میں سے۔
تفسیر:
جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے دیکھا کہ ان کے چھوٹے بھائی بنیامین کے برتن میں شاہی پیمانہ نکلا ہے اور وہ اسے روک لیا گیا ہے، تو ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ اب وہ اپنے بوڑھے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے کیسے جائیں گے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بنیامین ان کے والد کے لیے کتنا محبوب ہے۔ چنانچہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انتہائی عاجزی اور التجا کے ساتھ عرض کیا:
"اے عزیزِ مصر! اس بچے کا باپ بہت بوڑھا اور عمر رسیدہ ہے۔ وہ اپنے اس بیٹے سے بے حد محبت کرتا ہے اور اس کی جدائی اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوگی۔ اگر آپ اسے رکھ لیں گے تو اس بوڑھے باپ کی جان پر بن آئے گی۔ لہٰذا آپ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ لے لیں۔ ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ احسان کرنے والوں میں سے ہیں، آپ نے ہمارے ساتھ نہایت حسن سلوک کیا ہے، ہمیں اچھی ضیافت دی، پورا پورا ناپ کر غلہ دیا، اور ہمارے ساتھ بھلائی کا برتاؤ کیا۔ اب آپ اپنے اس احسان کی تکمیل فرمائیں اور ہم میں سے کسی ایک کو رہینِ مٹھ رکھ لیں، بنیامین کو اس کے بوڑھے باپ کے پاس جانے دیں۔"
یہ کہہ کر انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسنِ اخلاق اور احسان کا سہارا لیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام کی فطرتِ سلیمہ انہیں اس التجا کو قبول کرنے پر آمادہ کرے گی۔ ان کا یہ اندازِ گفتگو نہایت مؤثر تھا، کیونکہ انہوں نے ایک بوڑھے باپ کی محبت اور اس کی کمزوری کا ذکر کیا، اور ساتھ ہی یوسف علیہ السلام کی خوبیوں کو بھی سراہا تاکہ ان کا دل نرم ہو جائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ بزرگوں اور بوڑھے والدین کی عزت اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے۔ بھائیوں نے اپنے بوڑھے باپ کی محبت کا ذکر کیا اور اس کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ والدین کی خدمت اور ان کی خاطر ایثار کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ جب ہم کسی سے کوئی کام کروانا چاہیں تو نرمی اور اچھے انداز سے بات کریں، اور ان کی خوبیوں کا اعتراف کریں۔ بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کی تعریف کی اور انہیں "محسنین" میں شمار کیا، جس سے ان کا دل نرم ہوا۔ اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں اور ان کی اچھائیوں کو سراہیں، تاکہ معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ فروغ پائے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور کسی کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ بھائیوں نے بنیامین کی جگہ خود کو پیش کیا، تاکہ ان کے والد کو تکلیف نہ ہو۔ یہ قربانی کا بہترین نمونہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے پیاروں کی خاطر قربانیاں دینی چاہئیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے اور ان کی محبت کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں حسنِ اخلاق اور ایثار کی صفات سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 76-80 — یوسف
ترجمہ — یوسف 78
سورہ یوسف آیت 78 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت…سورہ آیت 78/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 76–80. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








