Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَعَاذَ اللہِ: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
- مَتَاعَنَا: ہمارا سامان (یہاں مراد وہ پیمانہ ہے جس سے غلہ ناپا جاتا تھا)۔
- لَظَالِمُونَ: ہم ضرور ظالم ہوں گے۔
تفسیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنے بھائی بنیامین کے برتن میں پیمانہ پا لیا، تو ان کے بھائیوں نے یہ مطالبہ کیا کہ چور کو سزا دینے کے بجائے اس کے بدلے کسی اور کو پکڑ لیں، یا یہ کہا کہ جو چوری کرے اسے پکڑو، لیکن ان کا اصل مقصد بنیامین کو چھڑوانا تھا۔ اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے انتہائی پاکیزہ اور عدل بھرے انداز میں فرمایا: "اللہ کی پناہ! ہم کسی ایسے شخص کو کیسے پکڑ سکتے ہیں جس کے پاس ہمارا سامان نہ ملا ہو؟" یعنی ہم صرف اسی کو پکڑیں گے جس کے پاس ہمارا پیمانہ پایا گیا ہے، کیونکہ یہی عدل کا تقاضا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "جس نے چوری کی" بلکہ فرمایا "جس کے پاس ہمارا سامان پایا گیا" تاکہ کسی پر بلا دلیل الزام نہ لگے اور وہ خود بھی جھوٹ سے بچیں۔
پھر فرمایا: "اگر ہم نے کسی بےگناہ کو پکڑ لیا اور مجرم کو چھوڑ دیا، تو ہم یقیناً ظالموں میں شمار ہوں گے۔" یہ فرما کر انہوں نے عدل و انصاف کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا، کہ ظلم صرف دوسروں پر نہیں ہوتا، بلکہ اگر ہم خود بھی کسی پر ناحق الزام لگائیں یا کسی بےگناہ کو سزا دیں تو ہم بھی ظالم بن جائیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ عدل و انصاف ہر حال میں قائم رکھنا چاہیے، چاہے معاملہ اپنے عزیزوں کا ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی درخواست کو رد کرتے ہوئے حق اور سچائی کو مقدم رکھا، اور یہی اسلام کا حسن ہے کہ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ رشتہ داری یا محبت کی وجہ سے کسی بےگناہ پر ظلم نہ کریں۔ آج ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں یہی راستہ اپنانا چاہیے کہ ہم ہمیشہ حق کی حمایت کریں، چاہے وہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عدل کا حکم دیا ہے اور فرمایا: "اے ایمان والو! اللہ کے لیے راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کے گواہ بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں عدل کرنے سے نہ روکے، عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔" (المائدہ: 8)۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات میں ہمیشہ انصاف کو پیش نظر رکھیں اور ظلم سے بچیں، کیونکہ ظلم کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔
📜 آیت 77-81 — سورہ یوسف
ترجمہ — یوسف 79
سورہ یوسف آیت 79 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس…سورہ آیت 79/111 — سورہ یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ یوسف سنیں, سورہ یوسف ترجمہ, سورہ یوسف mp3, سورہ یوسف pdf. آیت 77–81. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 29, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


