مَعَاذَ اللہِ: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
مَتَاعَنَا: ہمارا سامان (یہاں مراد وہ پیمانہ ہے جس سے غلہ ناپا جاتا تھا)۔
لَظَالِمُونَ: ہم ضرور ظالم ہوں گے۔
تفسیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنے بھائی بنیامین کے برتن میں پیمانہ پا لیا، تو ان کے بھائیوں نے یہ مطالبہ کیا کہ چور کو سزا دینے کے بجائے اس کے بدلے کسی اور کو پکڑ لیں، یا یہ کہا کہ جو چوری کرے اسے پکڑو، لیکن ان کا اصل مقصد بنیامین کو چھڑوانا تھا۔ اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے انتہائی پاکیزہ اور عدل بھرے انداز میں فرمایا: "اللہ کی پناہ! ہم کسی ایسے شخص کو کیسے پکڑ سکتے ہیں جس کے پاس ہمارا سامان نہ ملا ہو؟" یعنی ہم صرف اسی کو پکڑیں گے جس کے پاس ہمارا پیمانہ پایا گیا ہے، کیونکہ یہی عدل کا تقاضا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "جس نے چوری کی" بلکہ فرمایا "جس کے پاس ہمارا سامان پایا گیا" تاکہ کسی پر بلا دلیل الزام نہ لگے اور وہ خود بھی جھوٹ سے بچیں۔
پھر فرمایا: "اگر ہم نے کسی بےگناہ کو پکڑ لیا اور مجرم کو چھوڑ دیا، تو ہم یقیناً ظالموں میں شمار ہوں گے۔" یہ فرما کر انہوں نے عدل و انصاف کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا، کہ ظلم صرف دوسروں پر نہیں ہوتا، بلکہ اگر ہم خود بھی کسی پر ناحق الزام لگائیں یا کسی بےگناہ کو سزا دیں تو ہم بھی ظالم بن جائیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ عدل و انصاف ہر حال میں قائم رکھنا چاہیے، چاہے معاملہ اپنے عزیزوں کا ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی درخواست کو رد کرتے ہوئے حق اور سچائی کو مقدم رکھا، اور یہی اسلام کا حسن ہے کہ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ رشتہ داری یا محبت کی وجہ سے کسی بےگناہ پر ظلم نہ کریں۔ آج ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں یہی راستہ اپنانا چاہیے کہ ہم ہمیشہ حق کی حمایت کریں، چاہے وہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عدل کا حکم دیا ہے اور فرمایا: "اے ایمان والو! اللہ کے لیے راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کے گواہ بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں عدل کرنے سے نہ روکے، عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔" (المائدہ: 8)۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات میں ہمیشہ انصاف کو پیش نظر رکھیں اور ظلم سے بچیں، کیونکہ ظلم کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔