Qaaloo iny yasriq faqad saraqa akhul lahoo min qabl; fa asarrahaa Yoosufu fee nafsihee wa lam yubdihaa lahum; qaala antum sharrum makaananw wallaahu a`lamu bimaa tasifoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: اگر او دزدى كرده، برادرش نيز پيش از اين دزدى كرده بود. يوسف جواب آن سخن در دل پنهان داشت و هيچ اظهار نكرد و گفت: شما در وضعى بدتر هستيد و خدا به بهتانى كه مىزنيد آگاهتر است.
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَسْرِقْ: چوری کرے۔
أَخٌ لَّهُ: اس کا (سگا) بھائی۔
أَسَرَّهَا: اس بات کو دل میں چھپایا۔
لَمْ یُبْدِهَا: اسے ظاہر نہیں کیا۔
شَرٌّ مَّکَانًا: مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بدتر۔
تَصِفُونَ: جو کچھ تم بیان کرتے ہو (یعنی تہمت اور جھوٹ)۔
تفسیر:
جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے دیکھا کہ ان کے چھوٹے بھائی بنیامین کے برتن سے شاہی پیمانہ برآمد ہوا ہے، تو انہوں نے اپنے جرم کو چھپانے اور حضرت یوسف علیہ السلام کو نیچا دکھانے کے لیے کہا: "اگر یہ چوری کرتا ہے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ اس کا سگا بھائی (یوسف) بھی اس سے پہلے چوری کر چکا ہے۔" ان کا اشارہ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف تھا، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور بہتان تھا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ بات سنی تو ان کے دل کو بہت تکلیف پہنچی، لیکن انہوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا اور اسے دل ہی دل میں چھپا لیا، کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا۔ انہوں نے اپنے دل میں کہا: "تم لوگ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے اس سے بھی بدتر ہو، کیونکہ تم نے اپنے بھائی (یوسف) کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ سب سے بڑی چوری اور خیانت تھی۔" یعنی انہوں نے اپنے بھائی کو بچپن میں کنویں میں ڈال کر والد سے جدا کیا، یہ اس سے بڑھ کر تھا جو وہ بنیامین پر الزام لگا رہے تھے۔
پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو" یعنی تمہارے اس جھوٹ اور بہتان کی حقیقت اللہ کے علم میں ہے، اور وہی انصاف کرنے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے قیمتی اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، حضرت یوسف علیہ السلام کا کردار ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ جب دشمن جھوٹے الزام لگائے تو صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے، جذباتی ردعمل نہیں دینا چاہیے۔ دوسرے، یہ کہ جھوٹی تہمت لگانا اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنا بہت بڑا گناہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ تیسرے، یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے دل میں کسی کی برائی چھپائے اور معاف کردے، تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح صبر، بردباری اور درگزر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔