ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ہَلْ عَلِمْتُمْ: کیا تم جانتے ہو؟ (یہاں استفہام تقریری کے لیے ہے، یعنی کیا تمہیں معلوم ہے؟)
- مَا فَعَلْتُم: جو کچھ تم نے کیا۔
- بِیُوسُفَ وَأَخِیهِ: یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ۔
- إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ: جب تم جہالت کی حالت میں تھے۔
تفسیر:
جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی اس حالت کو دیکھا کہ وہ سخت پریشانی اور حاجت مندی میں ہیں، اور ان کے دل میں اپنے بھائی بنیامین کی جدائی کا غم تھا، تو ان پر رحم آ گیا۔ ان کی فطرتِ سلیمہ اور عفو و درگزر کا تقاضا تھا کہ وہ اب اپنا تعارف کروائیں۔ چنانچہ انہوں نے نہایت نرمی اور حکمت کے ساتھ فرمایا: "کیا تمہیں یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟"
یہ سوال دراصل انہیں ان کے ماضی کے قصور کی یاد دلا رہا تھا، لیکن اس انداز سے کہ ان پر الزام نہ لگے، بلکہ ان کی جہالت اور نادانی کی طرف اشارہ ہو۔ انہوں نے فرمایا: "جب تم جہالت کی حالت میں تھے" یعنی تم نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا، بلکہ اس وقت تمہیں اس فعل کے انجام اور برائی کا علم نہیں تھا۔ تم نے یوسف کو کنویں میں ڈالا، اسے بھائی سے جدا کیا، اور اس کے ساتھ جو کچھ کیا، یہ سب تمہاری نادانی اور جہالت کا نتیجہ تھا۔
یہاں حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ اندازِ گفتگو بہت ہی حکمت والا تھا۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کو شرمندہ کرنے کے بجائے ان کی جہالت کو معاف کرنے کا پہلو نکالا، تاکہ ان کے دلوں میں ندامت اور توبہ کا جذبہ پیدا ہو۔ یہ سوال دراصل ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے تھا، تاکہ وہ اپنے کیے پر پشیمان ہوں اور اللہ سے معافی مانگیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ معاف کرنے کا انداز بھی نہایت خوبصورت ہونا چاہیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو اس طرح مخاطب کیا کہ ان کی دل آزاری نہ ہوئی، بلکہ ان کے دل میں ندامت پیدا ہوئی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو ہم اسے اس طرح سمجھائیں کہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو، بلکہ وہ خود اپنی غلطی محسوس کرے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ جہالت اور نادانی کی حالت میں کیے گئے کاموں پر اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے، بشرطیکہ انسان بعد میں توبہ کر لے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو جہالت کی حالت میں کیے گئے فعل کی وجہ سے معاف کر دیا، اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے یہی سلوک فرماتا ہے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ مصیبتوں اور آزمائشوں کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے صابر بندوں کو ایسا مقام عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر سکیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو معاف کر کے یہ ثابت کیا کہ صبر اور تقویٰ کا انجام کتنا عظیم ہوتا ہے۔
آئیے ہم بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی سیرت سے سبق حاصل کریں، اپنے دلوں سے کینہ اور حسد نکالیں، اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اور جو لوگ لوگوں کو معاف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں بھی معاف فرماتا ہے۔
📜 آیت 87-91 — یوسف
ترجمہ — یوسف 89
سورہ یوسف آیت 89 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں…سورہ آیت 89/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 87–91. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








