یوسف · 88/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ ۝٨٨
Falammaa dakhaloo `alaihi qaaloo yaaa ayyuhal `Azeezu massanaa wa ahlanad durru wa ji`naa bibidaa `timmuzjaatin fa awfi lanal kaila wa tasaddaq `alainaa innal laaha yajzil mutasaddiqeen
📖 اردو ترجمہ
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ

معانی الفاظ:

  • الضُّرُّ: شدت، تکلیف، بھوک اور تنگی۔
  • بِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ: ایسا سامان یا روپیہ جو کم اور ناقص ہو، جس کی قدر و قیمت بہت معمولی ہو۔
  • فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ: ہمیں پورا ناپ تول دے، جیسا کہ پہلے دیتا تھا۔
  • وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا: ہم پر احسان فرما، یعنی ناقص چیز کو قبول کر کے درگزر کر اور ہمیں پوری مقدار عطا فرما۔

تفسیر:

جب یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے اپنے والد کا حکم مانا اور دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے، تو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ انہوں نے اس وقت اپنے بھائی بن یامین کی تلاش اور خوراک کی ضرورت کے پیش نظر یوسف علیہ السلام سے کہا: "اے عزیزِ مصر! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر سخت قحط اور مصیبت آ پڑی ہے، ہم بہت تنگی اور فقر میں مبتلا ہیں۔ ہم آپ کے پاس بہت معمولی اور ناقص سرمایہ لائے ہیں، جو پہلے والے اچھے سامان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں پورا ناپ تول دیں، جیسا کہ آپ پہلے دیتے تھے، اور ہم پر صدقہ و احسان فرمائیں، یعنی اس ناقص چیز کو قبول کر لیں اور ہمیں اس کے بدلے پوری مقدار عطا کر دیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ صدقہ و احسان کرنے والوں کو بہترین بدلہ دیتا ہے۔"

یہ وہ لمحہ تھا جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے عاجزی اور انکساری کا اظہار کیا، اور ان کی زبان سے نکلے الفاظ ان کی پچھلی غلطیوں کی معافی کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ محتاج ہیں، اور ان کی درخواست میں نرمی، ادب اور اللہ کی رحمت کی امید تھی۔ یوسف علیہ السلام نے اس موقع پر اپنے بھائیوں کو پہچان لیا، لیکن اپنا راز افشا نہ کیا، بلکہ ان کی درخواست پر توجہ دی اور انہیں پورا ناپ تول دیا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت اور تنگی کے وقت اللہ کے بندوں سے عاجزی اور نرمی سے بات کرنی چاہیے، اور اپنی حاجت بیان کرنے میں کوئی عار نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سبق ملتا ہے کہ جو لوگ دوسروں پر احسان اور صدقہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں کبھی محروم نہیں رکھتا، بلکہ ان کے صدقے کا بہترین بدلہ دیتا ہے۔ صدقہ و احسان نہ صرف دوسروں کی مشکل آسان کرتا ہے بلکہ دل کی صفائی، اخلاق کی بلندی اور اللہ کی رحمت کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے معاشرے میں ضرورت مندوں کی مدد کریں، ان پر شفقت کریں، اور اللہ سے امید رکھیں کہ وہ ہمارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 86-90 — یوسف

86قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
87يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
88فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
89قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
90قَالُوا أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي ۖ قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا ۖ إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
88آیت

ترجمہ — یوسف 88

سورہ یوسف آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ…

سورہ آیت 88/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں