یوسف · 90/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالُوا أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي ۖ قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا ۖ إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ۝٩٠
Qaaloo `a innaka la anta Yoosufu qaala ana Yoosufu wa haazaaa akhee qad mannal laahu `alainaa innahoo mai yattaqi wa yasbir fa innal laaha laa yudee`u ajral muhsineen
📖 اردو ترجمہ
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مَنَّ اللہُ عَلَینَا: اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا، ہمیں فضل و کرم سے نوازا۔
  • یَتَّقِ: اللہ سے ڈرے، اس کے احکام کی تعمیل کرے اور منع کردہ چیزوں سے بچے۔
  • یَصبِر: صبر کرے، مصیبتوں اور آزمائشوں پر ثابت قدم رہے۔
  • لَا یُضِیعُ: ضائع نہیں کرتا، برباد نہیں کرتا۔
  • أجرَ المُحسِنین: نیکی کرنے والوں کا ثواب اور اجر۔

تفسیر:

جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے سامنے اپنا راز افشا کیا اور انہیں یاد دلایا کہ تم نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا، تو وہ حیرت اور شرمندگی سے دنگ رہ گئے۔ انہوں نے نہایت تعجب کے ساتھ پوچھا: "کیا واقعی تم ہی یوسف ہو؟" یہ سوال اس لیے تھا کہ انہوں نے یوسف کو بچپن میں کنویں میں ڈالا تھا، پھر انہیں غلام بنا کر بیچ دیا تھا، اور اب وہ مصر کے عزیز (حاکم) بنے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے وہی بھائی کھڑا تھا جسے انہوں نے ستایا تھا، لیکن آج وہی ان کا محسن اور سردار بن کر سامنے آیا تھا۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے نہایت نرمی اور محبت سے جواب دیا: "ہاں، میں یوسف ہوں، اور یہ جو میرے ساتھ کھڑا ہے، یہ میرا حقیقی بھائی بنیامین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ ہمیں اس مصیبت اور جدائی کے بعد دوبارہ ملا دیا۔" یہ الفاظ ان کی عظمتِ نفس اور درگزر کا مظہر تھے۔ انہوں نے اپنے بھائیوں پر کوئی الزام نہیں لگایا، نہ انہیں شرمندہ کیا، بلکہ اللہ کے فضل کا ذکر کیا۔

پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے اس موقع پر ایک بہترین سبق دیا: "جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ہرگز ضائع نہیں کرتا۔" یعنی تقویٰ اور صبر ہی وہ دو صفتیں ہیں جو انسان کو اللہ کی محبت اور اس کی مدد کا مستحق بناتی ہیں۔ یہاں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی زندگی کا تجربہ بیان کیا کہ انہوں نے کنویں، غلامی، زندان اور دیگر مصائب پر صبر کیا، اور اللہ نے انہیں عزت و اقتدار عطا کیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا پیغام ہے کہ زندگی کی آزمائشیں چاہے کتنی ہی سخت ہوں، اللہ پر بھروسہ اور صبر کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم اللہ سے ڈرتے ہوئے نیکی کریں اور مشکلات پر صبر کریں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ ہمارے لیے ایسے راستے کھولتا ہے جن کا ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں تقویٰ اور صبر کو اپنائیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 88-92 — یوسف

88فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
89قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
90قَالُوا أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَٰذَا أَخِي ۖ قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا ۖ إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
91قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
92قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
90آیت

ترجمہ — یوسف 90

سورہ یوسف آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا…

سورہ آیت 90/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں