ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ: جنہیں ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی۔
- يَفْرَحُونَ: خوش ہوتے ہیں۔
- الْأَحْزَابِ: وہ گروہ جو آپ کے خلاف متحد ہوئے (یہود و نصاریٰ کے کافر سرغنے)۔
- يُنكِرُ بَعْضَهُ: اس کے بعض حصے کا انکار کرتا ہے۔
- مَآبِ: میری بازگشت، میرا ٹھکانہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل کتاب کے دو گروہوں کا ذکر فرماتا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جسے اللہ نے کتاب دی (یعنی تورات و انجیل کے سچے ماننے والے، جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور نجاشی جیسے مخلص لوگ) — یہ لوگ آپ پر نازل ہونے والے قرآن سے خوش ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ان کے پاس موجود حق کی تصدیق کرتا ہے اور ان کی اپنی کتابوں کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے۔ یہ خوشی اس لیے ہے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی نور اور ہدایت ہے جس کا انہیں انتظار تھا۔
دوسرا گروہ وہ ہے جو آپ کے خلاف متحد ہو گیا — یہ یہود و نصاریٰ کے وہ متعصب اور سرکش لوگ ہیں (جیسے نجران کے دو سردار سید اور عاقب، اور کعب بن اشرف) — یہ قرآن کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں، خاص طور پر وہ حصے جو ان کی اپنی تحریف شدہ شریعتوں کے خلاف ہیں یا ان کے غلط عقائد کی پردہ دری کرتے ہیں۔ وہ حق کو قبول کرنے کے بجائے اپنی خواہشات اور مفادات کی پیروی کرتے ہیں۔
پھر اللہ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہہ دیں: "مجھے صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔" یعنی میرا دین، میری دعوت، میری زندگی کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے — نہ تو میں بتوں کو پکارتا ہوں، نہ اپنی خواہشات کو معبود بناتا ہوں، نہ کسی مخلوق کو اس کا شریک ٹھہراتا ہوں۔ "میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں" — یعنی میری دعوت کا مرکز اور محور صرف توحید ہے، لوگوں کو اسی کی طرف بلاتا ہوں، نہ کسی اور کی طرف۔ "اور اسی کی طرف میری بازگشت ہے" — یعنی موت کے بعد میرا ٹھکانہ، میرا حساب اور میرا انجام سب اسی کے پاس ہے۔ میں اسی سے ڈرتا ہوں، اسی سے امید رکھتا ہوں، اور اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے کہ حق کی پہچان اور اس پر خوشی مومن کی علامت ہے۔ جو لوگ سچے دل سے اللہ کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، وہ قرآن کو سن کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان کے دلوں میں موجود حق کی تصدیق کرتا ہے۔ دوسری طرف جو لوگ اپنی خواہشات اور دنیاوی مفادات کے پابند ہیں، وہ حق کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی عبادت ہونی چاہیے — کوئی بھی عبادت، کوئی بھی دعا، کوئی بھی اطاعت صرف اللہ کے لیے ہو۔ ہم اپنے اعمال، اپنی دعوت، اپنی جدوجہد سب کچھ اسی کے لیے کریں۔ اور یاد رکھیں کہ ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اسی کے سامنے حساب دینا ہے۔ یہی توحید کا مکمل تصور ہے جو ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر سنبھالتا ہے اور ہمیں کسی اور کی طرف جھکنے سے بچاتا ہے۔
آئیے ہم اس آیت پر عمل کریں: اللہ کی عبادت کو خالص کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں، اسی کی طرف دعوت دیں، اور اسی کی طرف اپنے انجام کو یاد رکھیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 34-38 — رعد
ترجمہ — رعد 36
سورہ رعد آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ…سورہ آیت 36/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








