ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مکر: چالاکی، فریب، خفیہ تدبیر، کسی کو اس طرح نقصان پہنچانا جس کا اسے علم نہ ہو۔
- عقبی الدار: آخرت کا انجام، انجامِ کار، عاقبت کا گھر۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ اس بات سے پریشان نہ ہوں کہ آپ کی قوم کے کافر آپ کے خلاف سازشیں اور چالیں چل رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سی قومیں اپنے انبیاء کے خلاف ایسی ہی مکاریاں کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا، انہیں ستایا اور ان کے خلاف منصوبے بنائے، لیکن دیکھو ان کا انجام کیا ہوا؟ ان کی ساری چالیں ناکام ہوگئیں اور اللہ کا دین ہی غالب رہا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "فَلِلَّهِ الْمَكْرُ جَمِيعًا" یعنی ساری مکاری، ساری تدبیریں اور سارے منصوبے اللہ ہی کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی تدبیر کرنے والا صرف اللہ ہے۔ کافریں چاہے جتنی بھی چالیں چلیں، اللہ کی تدبیر ان سب پر غالب آتی ہے۔ وہ ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیتا ہے اور انہیں ان کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اللہ کی تدبیر سے کوئی بھی بھاگ نہیں سکتا، اور نہ کوئی اسے شکست دے سکتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ" یعنی وہ جانتا ہے جو کچھ بھی ہر نفس کما رہی ہے۔ اللہ کو ہر شخص کے اعمال کا مکمل علم ہے، چاہے وہ نیکی ہو یا بدی، چھوٹا ہو یا بڑا، ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ کوئی عمل اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایک تنبیہ ہے کہ اے لوگو! تم جو کچھ بھی کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا حساب رکھ رہا ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "وَسَيَعْلَمُ الْكُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ" یعنی عنقریب کافر جان لیں گے کہ آخرت کا انجام کس کے لیے ہے۔ جب وہ قیامت کے دن اٹھیں گے اور اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے، تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ عاقبت کا گھر کس کے لیے ہے۔ کیا یہ مومنین کے لیے ہے یا کافروں کے لیے؟ اس دن مومنین جنت میں داخل ہوں گے اور کافر جہنم میں۔ اس دن کافروں کو اپنی مکاریوں پر پشیمانی ہوگی، لیکن پشیمانی کا وقت گزر چکا ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک اہم سبق سکھاتا ہے کہ ہمیں کبھی بھی اللہ کی مدد سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، چاہے وہ کتنی ہی چالیں کیوں نہ چلیں، اللہ کی مدد ہمیشہ مومنین کے ساتھ ہے۔ جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر عمل کا حساب لے گا۔ اگر ہم نیکی کریں گے تو ہمارا انجام جنت ہوگا، اور اگر برائی کریں گے تو ہمارا انجام جہنم۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ نیکی کے راستے پر چلیں اور اللہ کی رحمت اور جنت کے حقدار بنیں۔ آمین۔
📜 آیت 40-43 — رعد
ترجمہ — رعد 42
سورہ رعد آیت 42 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتری) چالیں…سورہ آیت 42/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 40–43. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








