Wa udkhilal lazeena aamanoo wa `amilus saalihaati Jannaatin tajree min tahtihal anhaaru khaalideena feehaa bi izni Rabbihim tahiyyatuhum feeha salaam
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسانى را كه ايمان آوردهاند و كارهاى شايسته كردهاند، به بهشتهايى كه نهرها در آن جارى است درآورند؛ به فرمان پروردگارشان در آنجا جاودانه بمانند و به سلام، يكديگر را تحيت گويند.
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَنَّاتٍ: باغات، جنتیں
تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ: جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں
خَالِدِينَ: ہمیشہ رہنے والے
تَحِيَّتُهُمْ: ان کی آؤ بھگت، ان کا استقبال
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے انجام کے برعکس مومنینِ صادقین کا انجام بیان فرمایا ہے۔ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق نیک اعمال بھی کیے، انہیں ایسے باغات میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یہ نہریں ان کے محلات اور درختوں کے نیچے سے بہتی ہوں گی، جو جنت کی خوبصورتی اور خوشحالی کی علامت ہیں۔
یہ داخلہ محض ان کے اپنے عمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم اور اس کی اجازت سے ہوگا۔ وہ ان باغات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، کبھی انہیں وہاں سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ ہی ان کی نعمتوں میں کوئی کمی آئے گی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک اور عظیم نعمت کا ذکر فرمایا کہ ان کا استقبال اور آؤ بھگت "سلام" سے ہوگی۔ فرشتے انہیں سلام کریں گے، اہلِ جنت آپس میں ایک دوسرے کو سلام کہیں گے، اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں سلامتی اور امن کا پیغام دیا جائے گا۔ یہ سلام دراصل امن، سکون اور ہر قسم کی پریشانی سے نجات کی علامت ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے، ان کا انجام جنت ہے۔ یہ وعدہ اللہ کا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اپنے اعمال کو نیک بنائیں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو سکیں جنہیں یہ ابدی نعمتیں ملیں گی۔ یاد رکھیں، جنت کی نعمتیں صرف ایمان اور عمل صالح کا نتیجہ ہیں، اور یہ دونوں چیزیں ہر مسلمان کے لیے آسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے جنت الفردوس کا حقدار بنائے، آمین۔
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔