اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ذِي الْقَرْنَيْنِ: ایک نیک بادشاہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم، حکمت اور سلطنت عطا فرمائی تھی۔ اسے "ذو القرنین" اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں، یا اس لیے کہ اس نے مشرق اور مغرب دونوں طرف کا سفر کیا۔
سَأَتْلُو: میں پڑھ کر سناؤں گا، بیان کروں گا۔
ذِكْرًا: ایک یاد دہانی، نصیحت اور سبق آموز واقعہ۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! یہ مشرکین اور اہلِ کتاب آپ سے حضرت ذو القرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ وہ ایک عادل اور نیک بادشاہ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین کی بڑی سلطنت، علم اور حکمت عطا فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ انہیں جواب دیں: "میں تمہیں ان کا ایک سبق آموز واقعہ سناؤں گا۔"
یہ واقعہ قرآن مجید میں اس لیے بیان کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کیسے عزت اور اقتدار عطا کرتا ہے، اور یہ کہ حقیقی طاقت اور بادشاہی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کر دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ جب بھی ہم سے کسی نیک شخص کے حالات پوچھے جائیں یا ہمیں کسی اچھی بات کا علم ہو تو ہمیں اسے خوش اسلوبی سے بیان کرنا چاہیے، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا میں بھی عزت دیتا ہے، لیکن اصل کامیابی آخرت میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نیک لوگوں کے حالات سے سبق لیں اور اپنی زندگیوں کو ان کے نقش قدم پر چلانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نیک بندوں کی طرح دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔