ترجمہ — Tafsir
فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا
معانی الفاظ:
- فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ: دردِ زہا نے انہیں لاکر کھڑا کیا، یعنی ولادت کا درد انہیں مجبور کر کے لے آیا۔
- الْمَخَاضُ: ولادت کا درد، بچے کی آمد کا وقت۔
- جِذْعِ النَّخْلَةِ: کھجور کے درخت کا تنا۔
- نَسْيًا: کوئی معمولی اور حقیر چیز جو پھینک دی گئی ہو۔
- مَّنسِيًّا: بھلا دی گئی، جسے کوئی یاد نہ رکھتا ہو۔
تفسیر:
جب حضرت مریم علیہا السلام پر ولادت کا درد آیا تو وہ تنہا تھیں، کوئی مددگار نہ تھا، نہ کوئی قابِلہ، نہ کوئی سہارا۔ دردِ زہا کی شدت نے انہیں مجبور کر کے ایک کھجور کے سوکھے تنے کے پاس پہنچا دیا تاکہ وہ اس سے ٹیک لے سکیں۔ اس عالمِ اضطراب میں، جب وہ اپنے آپ کو بالکل تنہا اور بےکس پاتی ہیں، تو ان کی زبان سے یہ کلمات نکلتے ہیں: "یا لیتنی مت قبل هذا وکنتُ نسیًا منسیًّا" یعنی "اے کاش! میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بالکل بھولی بسری چیز بن گئی ہوتی۔"
یہ الفاظ ان کی بےقراری اور شرمندگی کا اظہار ہیں۔ وہ اس لیے موت کی تمنا کر رہی تھیں کہ لوگ ان پر تہمت لگائیں گے، کیونکہ وہ ایک پاک دامن کنواری لڑکی تھیں اور لوگ ان کے اس حال کو دیکھ کر برا گمان کریں گے۔ وہ چاہتی تھیں کہ وہ ایسی گمنام ہوں کہ کوئی انہیں جانتا ہی نہ ہو، تاکہ کوئی ان کے بارے میں کوئی غلط بات نہ کہہ سکے۔
یہاں سے ہمیں حضرت مریم علیہا السلام کی پاکیزگی اور غیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی برگزیدہ بندی تھیں، لیکن پھر بھی لوگوں کی زبان سے ڈرتی تھیں اور اپنی عزت کی حفاظت چاہتی تھیں۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ وہ جانتا تھیں کہ اللہ نے انہیں ایک معجزاتی کام کے لیے چنا ہے، لیکن اس وقت وہ صرف ایک انسان کی حیثیت سے اپنی کمزوری اور بےبسی کا اظہار کر رہی تھیں۔
یہ منظر ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے بھی مشکل وقت میں گھبرا جاتے ہیں، لیکن اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ حضرت مریم علیہا السلام کی یہ حالت دیکھ کر اللہ نے فوراً انہیں تسلی دی اور رزق کا بندوبست کیا، جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ جب ہماری جان پر بن آئے، تو ہمیں اللہ سے امید نہیں چھوڑنی چاہیے، کیونکہ وہی ہے جو مشکل سے نکلنے کا راستہ نکالتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی عزت کی حفاظت کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ حضرت مریم علیہا السلام نے اپنی عزت کی خاطر موت کو ترجیح دی، اور اللہ نے انہیں عزت عطا کی جو قیامت تک باقی رہے گی۔ ہمیں بھی اپنی عزت اور پاکدامنی کی حفاظت کرنی چاہیے، چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی قربانیاں دینی پڑیں۔
📜 آیت 21-25 — مریم
ترجمہ — مریم 23
سورہ مریم آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف…سورہ آیت 23/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








