ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تابَ: اپنے گناہوں سے باز آنا، سچی توبہ کرنا۔
آمَنَ: اللہ پر ایمان لانا، اس کی وحدانیت اور رسولوں کی تصدیق کرنا۔
عَمِلَ صَالِحًا: نیک عمل کرنا، فرائض کی ادائیگی اور اچھے کاموں کا اہتمام کرنا۔
لَا یُظْلَمُونَ شَیْئًا: ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی، ان کا حق پورا پورا دیا جائے گا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمتِ وسیع کا اعلان فرما رہے ہیں کہ جو لوگ پہلے گمراہی، کفر یا گناہوں میں مبتلا تھے، لیکن پھر وہ سچی توبہ کر کے اللہ کی طرف لوٹ آئے، ایمان لائے اور اپنے اعمال کو نیک بنا لیا، تو ان کے لیے جنت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ توبہ صرف زبانی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ دل سے کی گئی ہو، ایمان کے ساتھ ہو، اور اس کے بعد عمل صالح یعنی نیک اعمال اس کی تصدیق کریں۔ ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے اعمال میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ اپنے بندوں کے چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کو بھی قبول فرما کر اس کا پورا اجر عطا فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے امید کا پیغام ہے جو ماضی میں گناہوں میں مبتلا رہا ہو۔ اسلام میں مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں، اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ جو شخص بھی سچے دل سے توبہ کرے، اللہ اسے قبول فرماتا ہے اور اسے جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ توبہ وہ پاکیزہ راستہ ہے جو بندے کو گناہوں کی گندگی سے نکال کر اللہ کی محبت اور رحمت کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا، بلکہ انہیں توبہ کا موقع دے کر اپنی رحمت کا دامن وسیع کیا ہے۔ آئیے، ہم سب اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور نیک اعمال کے ذریعے اپنی آخرت کو سنواریں، کیونکہ جنت کا راستہ ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو اللہ کی طرف خلوص سے لوٹ آئے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا۔ (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے رہتے تھے
پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی
(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) ۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔