بقرہ · 120/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ۝١٢٠
Wa lan tardaa `ankal Yahoodu wa lan Nasaaraa hattaa tattabi`a millatahum; qul inna hudal laahi huwalhudaa; wa la`init taba`ta ahwaaa`ahum ba`dal lazee jaaa`aka minal `ilmimaa laka minal laahi minw waliyyinw wa laa naseer
📖 اردو ترجمہ
اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مِلَّة: دین، طریقہ، شریعت۔
  • ہُدَى: ہدایت، راہِ راست، حق کا راستہ۔
  • أهواء: خواہشات، نفسانی خواہشیں، من مانی باتیں۔
  • وَلِیّ: مددگار، دوست، حامی۔
  • نَصِیر: یاری دینے والا، مدد کرنے والا۔

تفسیر:

اے محبوب رسول! آپ یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ یہود و نصاریٰ (یہودی اور عیسائی) آپ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے، چاہے آپ انہیں کتنا ہی راضی کرنے کی کوشش کر لیں۔ وہ آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کر لیں، یعنی اپنے دینِ اسلام کو چھوڑ کر ان کے باطل طریقے اور ان کی من گھڑت تعلیمات کو اختیار نہ کر لیں۔ یہ ان کی ضد اور عناد ہے، وہ حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے دین پر چلیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے فرما دیں: "بے شک اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے" یعنی جو ہدایت اللہ نے اپنے قرآن اور اپنے نبی ﷺ کے ذریعے دی ہے، وہی سچی اور کامل ہدایت ہے، نہ کہ وہ راستے جو یہود و نصاریٰ اپنے لیے گھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی دین کی باتیں محض خواہشات اور باطل ہیں، ان کا کوئی حقیقی جواز نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ سخت تنبیہ فرماتا ہے: اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو آپ کے پاس اللہ کی طرف سے واضح حق کی صورت میں آ چکا ہے، یعنی قرآن اور وحی کے بعد، تو جان لیں کہ اللہ کی طرف سے آپ کا کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوگا، نہ کوئی دوست جو آپ کو بچائے اور نہ کوئی یار جو آپ کی مدد کرے۔ یہ بات اگرچہ ظاہری طور پر نبی ﷺ سے خطاب ہے، لیکن اس کا مقصد پوری امت کو متنبہ کرنا ہے کہ حق واضح ہونے کے بعد باطل کی طرف مائل ہونا انتہائی خطرناک ہے، اور ایسا کرنے والا اللہ کی حفاظت اور نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہیں، کسی کی خوشنودی کے لیے اپنے ایمان اور اصولوں سے سمجھوتہ نہ کریں۔ دنیا والوں کی رضامندی کی خاطر حق کو نہ چھوڑیں، کیونکہ اللہ کی رضامندی ہی اصل کامیابی ہے۔ جب ہمارے پاس اللہ کا کلام اور رسول ﷺ کی سنت موجود ہے تو ہمیں کسی اور کی بات کی ضرورت نہیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ غیر مسلموں سے محبت اور حسن سلوک رکھیں، لیکن ان کے دین اور ان کی تعلیمات کو کبھی قبول نہ کریں، اور نہ ہی ان کی خوشنودی کے لیے اپنے دین میں کوئی کمی یا تبدیلی کریں۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمیں حق پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 118-122 — بقرہ

118وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ
اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں
119إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۖ وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی
120وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار
121الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں
122يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ
اے بنی اسرائیل! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہلِ عالم پر فضیلت بخشی
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
120آیت

ترجمہ — بقرہ 120

سورہ بقرہ آیت 120 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے…

سورہ آیت 120/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 118–122. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں