ترجمہ — Tafsir
اللَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
معانی الفاظ:
- آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ: جنہیں ہم نے کتاب (تورات و انجیل) عطا کی۔
- يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ: اسے اس کی صحیح تلاوت کے مطابق پڑھتے ہیں، یعنی اسے بدلے بغیر، تحریف کیے بغیر، اور اس پر عمل کرتے ہوئے پڑھتے ہیں۔
- الْخَاسِرُونَ: نقصان اٹھانے والے، گھاٹے میں رہنے والے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے دو گروہوں کا ذکر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات، زبور، انجیل) دی، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اسے حق تلاوت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ حق تلاوت سے مراد یہ ہے کہ وہ کتاب کو ویسے ہی پڑھیں جیسے وہ نازل ہوئی تھی، اس میں کوئی تحریف نہ کریں، نہ اس کے الفاظ بدلیں اور نہ ہی اس کے معانی کو مسخ کریں، بلکہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ وہ اس کتاب میں موجود ان نشانیوں کو پہچانتے ہیں جو نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دیتی ہیں، چنانچہ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاتے ہیں تو آپ پر ایمان لے آتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی ایمان والے ہیں، اور ان کا ایمان انہیں نجات کی راہ دکھاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یہی لوگ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں" یعنی جو کتاب کو اس کے اصلی اور صحیح معنی میں پڑھتے ہیں، وہ قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لاتے ہیں، کیونکہ ان کی اپنی کتابیں انہیں اسی کی دعوت دیتی ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جو کوئی اس کا انکار کرے تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں" یعنی جنہوں نے کتاب کو تحریف کیا، اس کے الفاظ بدلے، اس کے معانی مسخ کیے، اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کیا، وہی حقیقی خسارے میں ہیں۔ انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی، ایمان کے بدلے کفر، اور آخرت کی کامیابی کے بدلے دنیا کی ذلت۔ یہ خسارہ صرف دنیا تک محدود نہیں، بلکہ آخرت میں بھی وہ سخت نقصان اٹھائیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ کتابِ الٰہی سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب ہم اسے صحیح معنوں میں پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ قرآن کریم ہمارے لیے نور اور ہدایت ہے، جو شخص اسے تلاوت کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی تلاوت کریں، اس کے معانی پر غور کریں، اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو حق تلاوت پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 119-123 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 121
سورہ بقرہ آیت 121 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ…سورہ آیت 121/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 119–123. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








