بقرہ · 162/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ  ۝١٦٢
khaalideena feeha laa yukhaffafu `anhumul `azaabu wa laa hum yunzaroon
📖 اردو ترجمہ
وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَالِدِينَ فِيهَا: اس میں ہمیشہ رہنے والے
  • لَا يُخَفَّفُ: ہلکا نہیں کیا جائے گا
  • الْعَذَابُ: عذاب، سزا
  • يُنظَرُونَ: مہلت دیے جائیں، ڈھیل دی جائے

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے انجامِ بد کا ذکر کر رہی ہے جنہوں نے کفر و نفاق پر اصرار کیا اور اللہ کی رحمت سے محروم ہو کر اپنے لیے لعنت اور عذاب کا سامان کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ لعنت اور آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یعنی ان کی سزا دائمی ہے، کوئی مدت مقرر نہیں، نہ کوئی رہائی کا امکان۔

پھر فرمایا: نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔ یعنی عذاب کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئے گی، نہ ایک لمحے کے لیے بھی سزا میں تخفیف ہوگی، اور نہ ہی انہیں کوئی موقع دیا جائے گا کہ وہ کوئی عذر پیش کریں یا توبہ کر سکیں۔ وہ بالکل بے یار و مددگار ہوں گے، نہ کوئی سفارشی، نہ کوئی چارہ گر۔

یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور نصیحت ہے کہ اللہ کی نافرمانی کا انجام کتنا بھیانک ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ جب تک ہماری جان میں جان ہے، ہم اللہ کی طرف رجوع کر سکتے ہیں، اپنے گناہوں سے توبہ کر سکتے ہیں اور اپنے انجام کو سنوار سکتے ہیں۔ اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اس عذاب سے بچنے کی کوشش کریں جو نہ ہلکا ہو اور نہ اس میں کوئی مہلت ملے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلائے اور اپنی رحمت سے نوازے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 160-164 — بقرہ

160إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيۡهِمۡ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ 
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں
161إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٌ أُوْلَٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ ٱللَّهِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ 
جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی لعنت
162خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ 
وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی
163وَإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ 
اور (لوگو) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
164إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلۡفُلۡكِ ٱلَّتِي تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَعۡقِلُونَ 
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
162آیت

ترجمہ — بقرہ 162

سورہ آیت 162/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 160–164. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں