بقرہ · 167/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ۝١٦٧
Wa qaalal lazeenat taba`oo law anna lanaa karratan fanatabarra a minhum kamaa tabarra`oo minnaa; kazaalika yureehimullaahu a`maalahum hasaraatin `alaihim wa maa hum bikhaarijeena minan Naar
📖 اردو ترجمہ
(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • کَرَّةً: ایک بار پھر دنیا میں واپسی، پلٹ کر آنا۔
  • فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ: ہم ان سے اپنی بیزاری اور لاتعلقی ظاہر کریں۔
  • حَسَرَاتٍ: پشیمانیاں، ندامتیں، حسرتیں۔

تفسیر:

قیامت کے دن جب اہلِ جہنم ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور اپنے انجام پر نظر ڈالیں گے، تو وہ لوگ جنہوں نے اپنے بڑوں اور رہنماؤں کی پیروی کی تھی، حسرت اور افسوس کے ساتھ کہیں گے: "کاش! ہمیں ایک بار پھر دنیا میں واپس جانے کا موقع ملتا، تو ہم ان رہنماؤں سے اس طرح بیزاری اور لاتعلقی ظاہر کرتے، جس طرح آج انہوں نے ہم سے اپنی بیزاری ظاہر کی ہے۔" یعنی وہ بڑے لوگ جنہوں نے انہیں گمراہ کیا تھا، آج خود ان سے برأت کا اعلان کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم تم سے الگ ہیں۔

یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں کہ جس طرح وہ انہیں قیامت کے دن ایک دوسرے سے بیزاری کی حالت دکھائیں گے، اسی طرح وہ ان کے اعمال کو بھی ان کے سامنے اس طرح پیش کریں گے کہ وہ اعمال جو انہوں نے دنیا میں کیے تھے، آج ان کے لیے حسرت اور ندامت کا باعث بن جائیں گے۔ کیونکہ وہ اعمال جو انہوں نے گمراہوں کی پیروی میں کیے تھے، آج انہیں کوئی فائدہ نہ دیں گے، بلکہ ان پر شرمندگی اور افسوس ہی ہوگا۔

اور پھر اس پر ایک اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ جہنم سے کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے، کیونکہ انہوں نے اپنے اعمال سے ایسا انجام خود اپنے لیے تیار کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت کریمہ سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کا خود احتساب کرنا چاہیے اور کسی کی اندھی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو سمجھ کر عمل کریں، کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا۔ کسی کی پیروی کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ شخص کس راستے پر چل رہا ہے، کیا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے یا نہیں۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے، اور ہمیں اسے اللہ کی رضا کے مطابق گزارنا چاہیے۔ اگر ہم آج اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں، تو کل قیامت کے دن ہمیں حسرت اور ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزاریں اور اس کے عذاب سے محفوظ رہیں۔ آمین۔



📜 آیت 165-169 — بقرہ

165وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
166إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ
اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں) عذاب (الہیٰ) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے
167وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے
168يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
لوگو جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
169إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
وہ تو تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
167آیت

ترجمہ — بقرہ 167

سورہ بقرہ آیت 167 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں…

سورہ آیت 167/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 165–169. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں