مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، همانند آن كس كه اموال خود را از روى ريا و خودنمايى انفاق مىكند و به خدا و روز قيامت ايمان ندارد، صدقههاى خويش را به منّتنهادن و آزار رسانيدن باطل مكنيد. مثَل او مثَل سنگ صافى است كه بر روى آن خاك نشسته باشد. به ناگاه بارانى تند فرو بارد و آن سنگ را همچنان كشت ناپذير باقى گذارد. چنين كسان از آنچه كردهاند سودى نمىبرند، كه خدا كافران را هدايت نمىكند.
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْمَنِّ: احسان جتلانا، کسی کو دی ہوئی چیز کا ذکر کر کے اسے رنج پہنچانا۔
الْأَذَىٰ: ستانا، تکلیف دینا، دل دکھانا۔
رِئَاءَ النَّاسِ: لوگوں کو دکھانے کے لیے، ریاکاری۔
صَفْوَانٍ: چکنی اور صاف چٹان۔
وَابِلٌ: زوردار بارش۔
صَلْدًا: بالکل صاف اور سخت چٹان جس پر کچھ نہ ہو۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک انتہائی اہم سبق سکھا رہے ہیں جو تمہارے صدقات اور نیکیوں کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ پہنچا کر برباد مت کرو۔ یاد رکھو! صدقہ کی اصل روح خلوص اور اللہ کی رضا ہے، جب تم کسی کو کچھ دیتے ہو تو وہ اللہ کے لیے ہوتا ہے، اسے واپس لینے یا اس پر احسان جتانے کا کوئی حق نہیں بنتا۔
اللہ تعالیٰ یہاں ایک واضح مثال دیتے ہیں کہ جو شخص اپنا مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اس کا دل اللہ اور آخرت پر ایمان سے خالی ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہو، پھر اچانک زوردار بارش آئے اور اس مٹی کو بہا کر لے جائے، چٹان بالکل صاف اور بے فیض رہ جائے۔ بالکل اسی طرح ریاکار اور احسان جتانے والوں کے اعمال کا ثواب اللہ کے ہاں بالکل ختم ہو جاتا ہے، وہ اپنی کمائی میں سے کچھ بھی آخرت میں نہیں پاتے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ صدقہ کی قبولیت کا دارومدار نیت کی پاکیزگی پر ہے۔ جب تم صدقہ کرو تو اسے اللہ کے لیے خالص رکھو، کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرو، کسی کو تکلیف نہ دو۔ یاد رکھو کہ احسان جتانا اور ایذا دینا صدقہ کے ثواب کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو کفر اور ریاکاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اس آیت کا پیغام بہت واضح ہے کہ اپنے صدقات کو پاکیزہ رکھو، انہیں احسان جتانے اور ایذا دینے جیسے اعمال سے آلودہ نہ کرو۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، لیکن اس شرط پر کہ تمہارا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو، نہ کہ لوگوں کی تعریف یا دنیاوی فائدہ۔ یاد رکھو، اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے اور وہی تمہارے اعمال کا صحیح بدلہ دینے والا ہے۔ اس لیے اپنے صدقات کو خلوص سے بھرپور بناؤ، تاکہ وہ اللہ کے ہاں مقبول ہوں اور تمہارے لیے آخرت میں ذخیرہ بن جائیں۔
جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔