بقرہ · 264/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ۝٢٦٤
Yaaa ayyuhal lazeena aamanoo laa tubtiloo sadaqaatikum bilmanni wal azaa kallazee yunfiqu maalahoo ri`aaa`an naasi wa laa yu`minu billaahi wal yawmil aakhiri famasaluhoo kamasali safwaanin `alaihi turaabun fa asaabahoo waabilun fatara kahoo saldaa; laa yaqdiroona `alaa shai`im mimmaa kasaboo; wallaahu laa yahdil qawmal kaafireen
📖 اردو ترجمہ
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَنِّ: احسان جتلانا، کسی کو دی ہوئی چیز کا ذکر کر کے اسے رنج پہنچانا۔
  • الْأَذَىٰ: ستانا، تکلیف دینا، دل دکھانا۔
  • رِئَاءَ النَّاسِ: لوگوں کو دکھانے کے لیے، ریاکاری۔
  • صَفْوَانٍ: چکنی اور صاف چٹان۔
  • وَابِلٌ: زوردار بارش۔
  • صَلْدًا: بالکل صاف اور سخت چٹان جس پر کچھ نہ ہو۔

تفسیر:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک انتہائی اہم سبق سکھا رہے ہیں جو تمہارے صدقات اور نیکیوں کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ پہنچا کر برباد مت کرو۔ یاد رکھو! صدقہ کی اصل روح خلوص اور اللہ کی رضا ہے، جب تم کسی کو کچھ دیتے ہو تو وہ اللہ کے لیے ہوتا ہے، اسے واپس لینے یا اس پر احسان جتانے کا کوئی حق نہیں بنتا۔

اللہ تعالیٰ یہاں ایک واضح مثال دیتے ہیں کہ جو شخص اپنا مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اس کا دل اللہ اور آخرت پر ایمان سے خالی ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہو، پھر اچانک زوردار بارش آئے اور اس مٹی کو بہا کر لے جائے، چٹان بالکل صاف اور بے فیض رہ جائے۔ بالکل اسی طرح ریاکار اور احسان جتانے والوں کے اعمال کا ثواب اللہ کے ہاں بالکل ختم ہو جاتا ہے، وہ اپنی کمائی میں سے کچھ بھی آخرت میں نہیں پاتے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ صدقہ کی قبولیت کا دارومدار نیت کی پاکیزگی پر ہے۔ جب تم صدقہ کرو تو اسے اللہ کے لیے خالص رکھو، کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرو، کسی کو تکلیف نہ دو۔ یاد رکھو کہ احسان جتانا اور ایذا دینا صدقہ کے ثواب کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو کفر اور ریاکاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

اس آیت کا پیغام بہت واضح ہے کہ اپنے صدقات کو پاکیزہ رکھو، انہیں احسان جتانے اور ایذا دینے جیسے اعمال سے آلودہ نہ کرو۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، لیکن اس شرط پر کہ تمہارا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو، نہ کہ لوگوں کی تعریف یا دنیاوی فائدہ۔ یاد رکھو، اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے اور وہی تمہارے اعمال کا صحیح بدلہ دینے والا ہے۔ اس لیے اپنے صدقات کو خلوص سے بھرپور بناؤ، تاکہ وہ اللہ کے ہاں مقبول ہوں اور تمہارے لیے آخرت میں ذخیرہ بن جائیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 262-266 — بقرہ

262الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
263۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ
جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے
264يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
265وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے
266أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
264آیت

ترجمہ — بقرہ 264

سورہ بقرہ آیت 264 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے…

سورہ آیت 264/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 262–266. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں