انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سُبْحَانَكَ: اے اللہ! تو پاک ہے، ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔
لَا عِلْمَ لَنَا: ہمیں کوئی علم نہیں۔
عَلِیم: سب کچھ جاننے والا۔
حَکِیم: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت سے کرے۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اشیاء کے نام سکھائے اور انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا، تو فرشتوں سے پوچھا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو ان اشیاء کے نام بتاؤ۔ اس پر فرشتوں نے اپنے رب کے حضور انتہائی عاجزی اور ادب کے ساتھ جواب دیا: "اے ہمارے رب! تو پاک ہے، ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ ہمیں کوئی علم نہیں سوائے اس کے جو تو نے ہمیں سکھایا ہے۔"
یہ فرشتوں کا جواب نہایت خوبصورت ہے کہ انہوں نے اپنے علم کی کمی کو تسلیم کیا اور سارا فضل اللہ کی طرف منسوب کیا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں علم نہیں، بلکہ کہا کہ ہمارا علم صرف وہی ہے جو تو نے ہمیں عطا فرمایا۔ پھر انہوں نے اللہ کی صفات بیان کیں: "بے شک تو ہی علیم اور حکیم ہے" یعنی تو ہر چیز کا جاننے والا ہے، تیرے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اور تو حکیم ہے یعنی ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
انسان کو اپنے علم پر نازاں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ کے علم کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے۔
جب کوئی بات نہ آئے تو صاف کہہ دینا چاہیے کہ مجھے نہیں معلوم، یہ بھی ایک خوبی ہے۔
فرشتوں کا یہ انداز ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے حضور بولتے وقت ادب اور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اس لیے ہمیں ہر معاملے میں اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ علم حاصل کرنے کا اصل ذریعہ اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے۔ اس لیے ہمیں اللہ سے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمیں نفع بخش علم عطا فرمائے اور ہمیں اپنے دین کی سمجھ دے۔ فرشتوں کا یہ اعترافِ قصور ہمارے لیے نمونہ ہے کہ ہم بھی اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری کا اعتراف کریں اور اس سے علم و حکمت کی دعا مانگیں۔
اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔