بقرہ · 35/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقُلۡنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ  ۝٣٥
Wa qulnaa yaaa Aadamus kun anta wa zawjukal jannata wa kulaa minhaa raghadan haisu shi`tumaa wa laa taqabaa haazihish shajarata fatakoonaa minaz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اسْكُنْ: رہو، قیام کرو
  • رَغَدًا: کشادہ، فراخی کے ساتھ، بے روک ٹوک
  • حَيْثُ شِئْتُمَا: جہاں تم دونوں چاہو
  • لَا تَقْرَبَا: قریب نہ جانا (یہاں مراد شجرہ سے کھانے کی ممانعت ہے)
  • الظَّالِمِينَ: ظلم کرنے والے، اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما کر انہیں علم عطا کیا اور فرشتوں پر ان کی فضیلت ظاہر کی، پھر انہیں اور ان کی زوجہ حوا کو جنت میں رہنے کا حکم دیا۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت اور مہربانی تھی کہ اس نے اپنے نبی کو جنت کی نعمتوں سے نوازا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں سکونت اختیار کرو اور اس کے پھلوں سے جہاں چاہو، جب چاہو، جیسے چاہو کشادگی اور فراخی کے ساتھ کھاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے مکمل آزادی اور رزق کی فراوانی تھی۔ جنت کی ہر نعمت ان کے لیے حلال تھی، کوئی کمی نہ تھی، کوئی روک ٹوک نہ تھی۔

لیکن اس وسعت اور آزادی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایک چیز سے منع فرمایا: "اور اس درخت کے قریب نہ جانا" یعنی اس درخت سے کھانا نہ کھانا۔ یہ امتحان تھا، اطاعت کا امتحان۔ اللہ تعالیٰ نے ایک سادہ سی ممانعت سے یہ دیکھنا چاہا کہ بندہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتا ہے یا نہیں۔

اس ممانعت کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے متنبہ بھی فرمایا: "اگر تم اس درخت کے قریب گئے تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے" یعنی تم اپنے اوپر ظلم کرو گے، اپنے آپ کو اللہ کی رحمت سے محروم کرو گے، اور اس نعمتِ عظیمہ کو کھو دو گے۔ یہاں ظلم سے مراد اپنی جان پر ظلم کرنا ہے، کیونکہ نافرمانی کرنے والا درحقیقت اپنے آپ کو اللہ کے عذاب اور سزا کا مستحق بنا لیتا ہے۔

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے اور انہیں بہت سی نعمتیں دیتا ہے، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے منع کیا گیا ہے۔ بندے کی آزمائش یہی ہے کہ وہ اللہ کی ممانعتوں کا احترام کرے۔ جنت جیسی عظیم نعمت میں بھی ایک چیز سے روکا گیا، تو ہماری دنیا میں تو بہت سی چیزیں حرام ہیں۔ اللہ نے جو حرام کیا ہے وہ ہماری بھلائی کے لیے ہی کیا ہے، کیونکہ وہ ہمارا خالق ہے اور جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔

یاد رکھیں! اللہ کی اطاعت ہی کامیابی کا راستہ ہے، اور نافرمانی ظلم ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اس کی ممانعتوں سے بچیں، تاکہ ہم بھی جنت کی نعمتوں کے حقدار بن سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 33-37 — بقرہ

33قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئۡهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسۡمَآئِهِمۡ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ غَيۡبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَأَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا كُنتُمۡ تَكۡتُمُونَ 
(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے
34وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ 
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا
35وَقُلۡنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ 
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
36فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ عَنۡهَا فَأَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِۖ وَقُلۡنَا ٱهۡبِطُواْ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّۖ وَلَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍ 
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
37فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتٍ فَتَابَ عَلَيۡهِۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ 
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
35آیت

ترجمہ — بقرہ 35

سورہ آیت 35/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں