Fa azallahumash Shaitaanu `anhaa fa akhrajahumaa mimmaa kaanaa fee wa qulnah bitoo ba`dukum liba`din `aduwwunw wa lakum fil ardi mustaqarrunw wa mataa`un ilaa heen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس شيطان آن دو را به خطا واداشت، و از بهشتى كه در آن بودند بيرون راند. گفتيم: پايين رويد، برخى دشمن برخى ديگر، و قرارگاه و جاى برخوردارى شما تا روز قيامت در زمين باشد.
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَأَزَلَّهُمَا: شیطان نے ان دونوں کو پھسلایا، یعنی ان کے قدم لغزش میں ڈال دیے۔
عَنْهَا: اس (جنت) سے دور کر دیا۔
فَأَخْرَجَهُمَا: پھر انہیں باہر نکال دیا۔
اهْبِطُوا: تم سب زمین پر اتر جاؤ۔
مُسْتَقَرٌّ: ٹھہرنے کی جگہ۔
مَتَاعٌ: فائدہ اٹھانے کا سامان، روزی اور آرام کی چیزیں۔
إِلَىٰ حِينٍ: ایک مقررہ وقت تک، یعنی زندگی کے اختتام تک۔
تفسیر:
شیطان نے آدم اور حوا علیہما السلام کو مسلسل وسوسے دیے اور ان کے دلوں میں جنت کی اس ممنوعہ چیز کی محبت ڈالی، یہاں تک کہ ان سے لغزش ہو گئی اور انہوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا۔ اس طرح شیطان انہیں جنت کی نعمتوں اور سکون سے محروم کرنے میں کامیاب ہو گیا اور وہ اس دائمی راحت اور خوشی سے باہر نکل آئے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ تم سب زمین پر اتر جاؤ — آدم، حوا اور شیطان — اور وہاں تمہارے درمیان باہمی دشمنی ہوگی۔ شیطان ہمیشہ انسان کا کھلا دشمن رہے گا اور اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ زمین پر تمہارے لیے ایک عارضی قیام گاہ ہے اور وہاں تمہیں روزی، رہائش اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کی جائیں گی، لیکن یہ سب کچھ ایک مقررہ وقت تک ہے، یعنی تمہاری زندگی کے اختتام اور قیامت تک۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے ہمیں اللہ کی اطاعت سے بھٹکانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح اس نے آدم علیہ السلام کو دھوکہ دیا، اسی طرح وہ ہمیں بھی گناہوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے — جب آدم علیہ السلام نے اپنی غلطی پر توبہ کی تو اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی غلطیوں پر فوراً توبہ کریں اور شیطان کے دھوکے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگیں۔ یاد رکھیں، دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی آخرت میں ہے، جہاں اللہ اپنے نیک بندوں کو جنت کی دائمی نعمتیں عطا فرمائے گا۔
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔