Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اَبٰی: انکار کیا، نہ مانا۔
- وَاسْتَکْبَرَ: تکبر کیا، اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔
- کَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ: کافروں میں شامل ہو گیا۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے رسول! لوگوں کو وہ وقت یاد دلائیں جب اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت کا نہیں تھا، بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدم علیہ السلام کی عظمت و فضیلت کے اعتراف کے طور پر تھا۔ فرشتوں نے فوراً اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی اور سب نے سجدہ کیا۔
لیکن ابلیس نے اس حکم کی مخالفت کی۔ وہ فرشتوں کے ساتھ تھا لیکن جنوں میں سے تھا۔ اس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور تکبر کیا۔ اس کا تکبر اس کے اعتراض کا سبب بنا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم مٹی سے، اس لیے میں ان سے بہتر ہوں۔ اس طرح اس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور کفر کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ کے علم میں وہ پہلے سے کافروں میں شمار تھا، کیونکہ اس کا انجام اس کے اختیار اور سرکشی کی وجہ سے تھا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں چند اہم سبق سکھاتی ہے:
- اطاعت و فرمانبرداری: فرشتوں کا سجدہ کرنا اللہ کے حکم کی فوری تعمیل کی مثال ہے۔ ہمیں بھی اللہ کے احکام کو بلا چون و چرا قبول کرنا چاہیے۔
- تکبر کا انجام: ابلیس کا تکبر اس کے زوال کا سبب بنا۔ تکبر وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرنی چاہیے۔
- حسد اور حسد کا نقصان: ابلیس نے حسد کی وجہ سے آدم علیہ السلام کی فضیلت کو تسلیم نہ کیا۔ حسد انسان کو اندھا کر دیتا ہے اور اسے حق سے دور کر دیتا ہے۔
- اللہ کی رحمت: اللہ نے آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت دی اور انہیں سجدہ کا حکم دیا۔ یہ انسان کی عظمت کا اظہار ہے۔ ہمیں اللہ کے اس فضل کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
- انتباہ: یہ آیت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور وہ ہمیں بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ ہمیں اس کے وسوسوں سے بچنا چاہیے اور اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کی اطاعت ہی کامیابی کا راستہ ہے، اور تکبر و سرکشی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں اور شیطان کے راستے سے بچیں۔
📜 آیت 32-36 — سورہ بقرہ
ترجمہ — بقرہ 34
سورہ بقرہ آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم…سورہ آیت 34/286 — سورہ بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ بقرہ سنیں, سورہ بقرہ ترجمہ, سورہ بقرہ mp3, سورہ بقرہ pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


