اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اَبٰی: انکار کیا، نہ مانا۔
وَاسْتَکْبَرَ: تکبر کیا، اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔
کَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ: کافروں میں شامل ہو گیا۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے رسول! لوگوں کو وہ وقت یاد دلائیں جب اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرو۔ یہ سجدہ عبادت کا نہیں تھا، بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدم علیہ السلام کی عظمت و فضیلت کے اعتراف کے طور پر تھا۔ فرشتوں نے فوراً اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی اور سب نے سجدہ کیا۔
لیکن ابلیس نے اس حکم کی مخالفت کی۔ وہ فرشتوں کے ساتھ تھا لیکن جنوں میں سے تھا۔ اس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور تکبر کیا۔ اس کا تکبر اس کے اعتراض کا سبب بنا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم مٹی سے، اس لیے میں ان سے بہتر ہوں۔ اس طرح اس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور کفر کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ کے علم میں وہ پہلے سے کافروں میں شمار تھا، کیونکہ اس کا انجام اس کے اختیار اور سرکشی کی وجہ سے تھا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں چند اہم سبق سکھاتی ہے:
اطاعت و فرمانبرداری: فرشتوں کا سجدہ کرنا اللہ کے حکم کی فوری تعمیل کی مثال ہے۔ ہمیں بھی اللہ کے احکام کو بلا چون و چرا قبول کرنا چاہیے۔
تکبر کا انجام: ابلیس کا تکبر اس کے زوال کا سبب بنا۔ تکبر وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرنی چاہیے۔
حسد اور حسد کا نقصان: ابلیس نے حسد کی وجہ سے آدم علیہ السلام کی فضیلت کو تسلیم نہ کیا۔ حسد انسان کو اندھا کر دیتا ہے اور اسے حق سے دور کر دیتا ہے۔
اللہ کی رحمت: اللہ نے آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت دی اور انہیں سجدہ کا حکم دیا۔ یہ انسان کی عظمت کا اظہار ہے۔ ہمیں اللہ کے اس فضل کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
انتباہ: یہ آیت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور وہ ہمیں بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ ہمیں اس کے وسوسوں سے بچنا چاہیے اور اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کی اطاعت ہی کامیابی کا راستہ ہے، اور تکبر و سرکشی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں اور شیطان کے راستے سے بچیں۔
(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔