بقرہ · 76/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُمْ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۝٧٦
Wa izaa laqul lazeena aamanoo qaalooo aamannaa wa izaakhalaa ba`duhum ilaa ba`din qaalooo atuhaddisoonahum bimaa fatahal laahu `alaikum liyuhaajjookum bihee `inda rabbikum; afalaa ta`qiloon
📖 اردو ترجمہ
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَقُوا: ملنا، ملاقات کی۔
  • خَلَا: تنہائی میں جانا، خلوت میں ملنا۔
  • فَتَحَ اللہُ عَلَیکُم: اللہ نے تم پر جو کھولا، یعنی تمہیں جو علم اور بصیرت دی۔
  • لِیُحَاجُّوکُم: تاکہ وہ تم سے حجت کریں، دلیل قائم کریں۔
  • عِندَ رَبِّکُم: تمہارے رب کے پاس، یعنی روزِ قیامت۔

تفسیر:

یہ آیت منافق یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو اپنے اندر دوغلا پن رکھتے تھے۔ جب یہ لوگ اہلِ ایمان سے ملتے تھے تو اپنی زبان سے کہتے تھے: "ہم ایمان لائے" یعنی ہم تمہارے دین اور تمہارے نبی پر ایمان رکھتے ہیں، حالانکہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہوتا تھا۔ وہ صرف دکھاوے اور مصلحت کے لیے ایسا کہتے تھے، تاکہ مسلمانوں کے درمیان اپنی ساکھ برقرار رکھیں اور انہیں دھوکہ دیں۔

لیکن جب یہ منافق یہودی آپس میں تنہائی میں ملتے تھے، تو ان کے سردار اور بڑے لوگ ان سے کہتے تھے: "کیا تم مسلمانوں سے وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں؟" یعنی تمہاری کتاب تورات میں نبی کریم ﷺ کی آمد اور ان کی صفات کے بارے میں جو واضح نشانیاں اور پیشین گوئیاں موجود ہیں، کیا تم انہیں مسلمانوں کو بتا دیتے ہو؟ کیا تمہیں عقل نہیں کہ اس طرح تم خود اپنے خلاف حجت قائم کر رہے ہو؟ کیونکہ جب مسلمانوں کو یہ علم ہو جائے گا کہ تمہاری اپنی کتاب میں نبی ﷺ کی تصدیق موجود ہے، تو وہ قیامت کے دن تمہارے رب کے سامنے تمہارے خلاف یہی دلیل پیش کریں گے، اور تمہارے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔

یہ تھا ان کا منافقانہ رویہ — ایک طرف مسلمانوں سے ایمان کا دعویٰ کرتے، دوسری طرف اپنے لوگوں کو ڈانٹتے کہ انہوں نے راز کیوں افشا کیا۔ حالانکہ اگر وہ واقعی سمجھتے ہوتے تو سمجھ لیتے کہ اللہ کا دین چھپانے سے نہیں چھپتا، اور حق کو ماننا ہی ان کے لیے بہتر تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ نفاق اور دوغلا پن کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ انسان کو چاہیے کہ سچ بولے، سچ پر قائم رہے، اور جو حق اسے معلوم ہو اسے چھپائے نہیں۔ یہود کے برعکس، ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ہم اپنے ایمان میں سچے ہوں، اپنے دین پر فخر کریں، اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب دی ہے، اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے نوازا ہے — یہ سب سے بڑی نعمت ہے، جس کا اظہار کرنا اور اس پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے۔ جو لوگ حق کو جانتے ہوئے چھپاتے ہیں، وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم پر عمل کریں، اور اپنے رب کے سامنے اس دن شرمندہ نہ ہوں جب کوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 74-78 — بقرہ

74ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں
75۞ أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں
76وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُمْ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
77أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے
78وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے باطل خیالات کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
76آیت

ترجمہ — بقرہ 76

سورہ بقرہ آیت 76 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے…

سورہ آیت 76/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 74–78. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں