بقرہ · 77/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
أَوَلَا يَعۡلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَ  ۝٧٧
Awalaa ya`lamoona annal laaha ya`lamu maa yusirroona wa maa yu`linoon
📖 اردو ترجمہ
کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یُسِرّونَ: چھپاتے ہیں، پوشیدہ رکھتے ہیں۔
  • یُعْلِنونَ: ظاہر کرتے ہیں، اعلان کرتے ہیں۔

تفسیر:

یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کے چھپے ہوئے اور ظاہر کیے ہوئے سب اعمال اور اقوال سے خوب واقف ہے؟ وہ اپنے دلوں میں جو سازشیں کرتے ہیں، جو باتیں آپس میں چھپ کر کرتے ہیں، اور جو کچھ لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کا علم رکھتے ہیں۔ یہ لوگ گویا اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہیں۔ وہ اپنے جرائم اور منافقانہ رویے اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ بھول گئے ہوں کہ ان کا رب انہیں دیکھ رہا ہے اور ان کے اعمال کا حساب لینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے چھپے ہوئے ارادوں اور ظاہری حرکات کو سب کے سامنے بے نقاب کرے گا اور انہیں رسوا کرے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک مومن کو ہمیشہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر اور باطن سب سے باخبر ہے۔ جب انسان کو یہ باور ہو جائے کہ اللہ ہر وقت اسے دیکھ رہا ہے، تو وہ کبھی گناہوں کا ارتکاب نہیں کر سکتا، نہ چھپ کر اور نہ کھلے عام۔ یہی وہ تقویٰ ہے جو انسان کو نیکی کی راہ پر گامزن رکھتا ہے اور برائیوں سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ہمارے لیے رحمت ہے کہ وہ ہماری پریشانیوں اور حاجتوں سے واقف ہے، اور ہمارے لیے تنبیہ بھی کہ ہم اپنے اعمال میں محتاط رہیں۔ جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اس کا رب اس کے ساتھ ہے اور اس کے ہر عمل سے باخبر ہے، وہ کبھی تنہا محسوس نہیں کرتا اور ہمیشہ صراطِ مستقیم پر چلتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 75-79 — بقرہ

75۞ أَفَتَطۡمَعُونَ أَن يُؤۡمِنُواْ لَكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُونَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ 
(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں
76وَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ قَالُوٓاْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ 
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
77أَوَلَا يَعۡلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَ 
کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے
78وَمِنۡهُمۡ أُمِّيُّونَ لَا يَعۡلَمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّآ أَمَانِيَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ 
اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے باطل خیالات کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
79فَوَيۡلٌ لِّلَّذِينَ يَكۡتُبُونَ ٱلۡكِتَٰبَ بِأَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ لِيَشۡتَرُواْ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًاۖ فَوَيۡلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتۡ أَيۡدِيهِمۡ وَوَيۡلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكۡسِبُونَ 
تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
77آیت

ترجمہ — بقرہ 77

سورہ آیت 77/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں