ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عُقْدَةً: گرہ، یعنی زبان میں جو رکاوٹ یا بندش تھی۔
- مِّن لِّسَانِي: میری زبان سے۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! میرا سینہ کھول دے، میرا کام آسان فرما، اور میری زبان کی گرہ حل فرما، تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ یہ دعا انہوں نے اس لیے کی کیونکہ وہ فرعون کے پاس جا کر اللہ کا پیغام پہنچانے والے تھے، اور ان کی زبان میں کچھ لکنت یا رکاوٹ تھی جس کی وجہ سے ان کا کلام واضح نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ وہ ان کی زبان کو کھول دے تاکہ وہ فصیح و بلیغ انداز میں پیغام حق پہنچا سکیں۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ سے اپنی کمزوریوں کے دور کرنے کی التجا کرنی چاہیے، خاص طور پر جب ہم کسی اہم ذمہ داری یا دینی کام کے لیے نکل رہے ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان کی رکاوٹ کو اللہ کے سامنے رکھا، اور اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ یہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنی تمام ضروریات اور کمزوریوں کے لیے صرف اللہ ہی سے مدد مانگیں، کیونکہ وہی ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب ہم کسی نیک کام کا ارادہ کریں، خاص طور پر دین کی دعوت یا تبلیغ کا کام، تو ہمیں اللہ سے اپنی صلاحیتوں میں اضافے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کی دعا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب وہ خلوص دل سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے حضور اپنی کمزوریاں بیان کرنا عاجزی اور بندگی کی علامت ہے، اور اللہ اپنے بندے کی یہ عاجزی پسند کرتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ سے مدد طلب کریں، اور یقین رکھیں کہ وہ ہماری مشکلات کو آسان کرنے والا ہے۔
📜 آیت 25-29 — طہ
ترجمہ — طہ 27
سورہ طہ آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میری زبان کی گرہ کھول دےسورہ آیت 27/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








