ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نُسَبِّحَکَ: ہم تیری پاکی بیان کریں، تیرے لائق تعریف و توصیف کریں۔
- کَثِیرًا: بہت زیادہ، کثرت کے ساتھ۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! میرا سینہ کھول دے، میرا کام آسان فرما، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، اور میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر اور مددگار بنا دے، ان کے ذریعے میری کمر مضبوط کر، اور انہیں میری رسالت میں شریک فرما۔ پھر انہوں نے اس دعا کا مقصد بیان کیا: "تاکہ ہم تیری کثرت سے تسبیح کریں" یعنی ہم تیری پاکی بیان کریں، تیرے نام کی یاد میں مصروف رہیں، اور تیری حمد و ثنا کریں۔
یہ دعا سکھاتی ہے کہ اللہ سے مدد مانگنے کا اصل مقصد دنیاوی فائدہ نہیں بلکہ عبادت اور ذکر الٰہی میں مشغولیت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی مدد کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنے رب کو زیادہ یاد کرے، اس کی تسبیح کرے اور اس کی عظمت کو پہچانے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا اس لیے کی تاکہ وہ اپنی مہم میں کامیاب ہوں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرسکیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر کام میں اللہ کی مدد طلب کریں اور اس کا ذکر کریں۔ جب ہم کسی مشکل کام کا آغاز کریں تو اللہ سے توفیق مانگیں اور اس کی تسبیح کریں۔ اللہ کا ذکر دل کو سکون دیتا ہے اور مشکلات میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کو یاد رکھیں، کیونکہ جو اللہ کو یاد رکھتا ہے، اللہ اسے یاد رکھتا ہے اور اس کی حفاظت فرماتا ہے۔
📜 آیت 31-35 — طہ
ترجمہ — طہ 33
سورہ طہ آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریںسورہ آیت 33/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








