ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُوتِيتَ: تم دیا گیا، عطا کیا گیا
- سُؤْلَ: سوال، طلب، جو کچھ مانگا گیا
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرما رہے ہیں کہ اے موسیٰ! تم نے جو کچھ بھی مجھ سے مانگا ہے، وہ سب تمہیں عطا کر دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کا خاص فضل اور کرم ہے جو اس نے اپنے برگزیدہ نبی پر کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے جو دعائیں مانگی تھیں، ان میں سینے کی کشادگی، کام میں آسانی، زبان کی گرہ کھولنا، بھائی ہارون کو مددگار بنانا، اور اپنے خاندان کو اپنے ساتھ شریک کرنا شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی ہر التجا قبول فرمائی اور ہر درخواست پوری کر دی۔
یہ اللہ کا وہ عظیم انعام ہے جو اس نے اپنے نبی کو دیا، اور اس میں موسیٰ علیہ السلام کے لیے تسلی اور اطمینان کا سامان تھا کہ ان کا رب ان کی سنتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور انہیں قبول فرماتا ہے۔ جب بندہ اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اور اپنی حاجتیں پیش کرتا ہے، تو اللہ اسے خالی نہیں لوٹاتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی کو بھی اللہ سے مانگنا سکھایا گیا، تو ہم کیوں نہ اپنے رب سے اپنی ضروریات مانگیں؟
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس سے مانگیں۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے رب سے جڑتا ہے اور اپنی مشکلات کا حل پاتا ہے۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی، اسی طرح ہر مخلص بندے کی دعا اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔
آئیے ہم بھی اپنے رب سے جڑیں، اس سے مانگیں، اور یقین رکھیں کہ وہ ہماری سنتا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق ہمیں عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کا تعلق ہی بندے کی کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔
📜 آیت 34-38 — طہ
ترجمہ — طہ 36
سورہ طہ آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئیسورہ آیت 36/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








