ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَصِيرًا: دیکھنے والا، جاننے والا، ہر چیز سے باخبر۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا کے آخر میں یہ جملہ کہا: "بے شک آپ ہم پر دیکھنے والے ہیں" یعنی اے اللہ! تو ہماری ہر حالت کو جانتا ہے، ہماری نیتوں، ہماری کمزوریوں، ہماری حاجتوں اور ہماری پناہ گاہوں سے سب کچھ باخبر ہے۔ تیرے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ ہمارے ظاہر میں کوئی کمی تیرے علم سے باہر ہے اور نہ ہمارے باطن کی کوئی بات تجھ پر مخفی ہے۔
یہ دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت کی جب انہیں فرعون کے پاس جانے کا حکم ملا تھا۔ انہوں نے اللہ سے سینے کی کشادگی، کام میں آسانی، زبان کی روانی اور اپنے بھائی ہارون کو مددگار بنانے کی درخواست کی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ اے اللہ! تو ہم پر مکمل نظر رکھتا ہے، تو ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمیں کس طرح مدد کی ضرورت ہے اور کس طرح ہم اپنی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں۔
یہ جملہ دراصل توکل اور بھروسے کا اظہار ہے۔ بندہ جب یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اس پر نظر رکھتا ہے، اس کی ہر حالت سے باخبر ہے، تو اس کے دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دعا کے ذریعے ہمیں سکھایا کہ جب بھی ہم کوئی بڑا کام کریں، تو اللہ سے مدد مانگیں، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کریں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ ہماری ہر حالت سے باخبر ہے اور وہی ہمیں کامیابی عطا کرنے والا ہے۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ سے مانگنے میں کوئی عار نہیں، بلکہ یہی بندے کی عاجزی اور اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے۔ اللہ اپنے بندوں کی ہر پکار سنتا ہے اور ان کی حاجت پوری کرتا ہے۔ جب ہم اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں گے اور اس سے مدد مانگیں گے، تو وہ ہمیں راستہ دکھائے گا اور ہمارے کام آسان کرے گا۔
📜 آیت 33-37 — طہ
ترجمہ — طہ 35
سورہ طہ آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم کو (ہر حال میں) دیکھ رہا ہےسورہ آیت 35/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








