طہ · 58/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنتَ مَكَانًا سُوًى ۝٥٨
Falanaatiyannaka bisihrim mislihee faj`al bainanaa wa bainaka maw`idal laa nukhlifuhoo nahnu wa laaa anta makaanan suwaa
📖 اردو ترجمہ
تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بِسِحْرٍ مِّثْلِهِ: اس جیسا جادو
  • مَوْعِدًا: وعدے کا وقت اور مقام
  • لَا نُخْلِفُهُ: ہم اس کی خلاف ورزی نہیں کریں گے
  • مَكَانًا سُوًى: برابر اور درمیانی جگہ

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا ڈالا تو وہ ایک بڑا سانپ بن گیا، اور آپ نے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکتا ہوا نظر آیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری حیران رہ گئے، لیکن اپنے کفر اور تکبر کی وجہ سے وہ حق کو قبول نہ کر سکے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ہم بھی تمہارے پاس اسی جیسا جادو لائیں گے۔" گویا انہوں نے اس معجزے کو جادو قرار دے کر چیلنج قبول کیا۔

پھر انہوں نے کہا: "تم ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کرو، جس کی نہ ہم خلاف ورزی کریں اور نہ تم، اور وہ جگہ درمیانی ہو جو دونوں فریقوں کے لیے یکساں فاصلے پر ہو۔" ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ مقابلہ کھلے عام ہو، تاکہ لوگ دیکھ سکیں اور کوئی فریق فائدہ نہ اٹھا سکے۔

یہ بات غور طلب ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اپنے جادو کو "سحر" کہا، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو بھی "سحر" کہہ کر اس کی حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ معجزہ ہے، لیکن اپنے منصب اور اقتدار کے خوف سے انہوں نے اسے جادو قرار دیا۔

اس آیت سے ہمیں چند اہم اسباق ملتے ہیں:

  1. حق کا چیلنج: باطل ہمیشہ حق کے سامنے چیلنج کرتا ہے، لیکن حق کو ثابت قدم رہنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اللہ پر بھروسہ رکھا۔
  2. منصوبہ بندی کی اہمیت: فرعون نے مقابلے کے لیے وقت اور جگہ مقرر کرنے کا کہا، جو ایک منظم انداز ہے۔ مسلمان کو بھی اپنے معاملات میں منصوبہ بندی کرنی چاہیے، لیکن اللہ پر توکل کے ساتھ۔
  3. حق کی فتح یقینی ہے: باطل چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اللہ کا وعدہ ہے کہ حق ہی غالب آئے گا۔ جیسا کہ اس واقعے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جادوگروں پر غلبہ ہوا اور وہ ایمان لے آئے۔
  4. دعوت کا انداز: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی بات کو رد نہیں کیا، بلکہ اسے قبول کیا اور مقابلے کے لیے تیار ہو گئے۔ یہ دعوت دینے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے کہ حق کو پیش کرنے میں حکمت اور صبر سے کام لیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے اور باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 56-60 — طہ

56وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ آيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ
اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ تکذیب وانکار ہی کرتا رہا
57قَالَ أَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَا مُوسَىٰ
کہنے لگا کہ موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو
58فَلَنَأْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنتَ مَكَانًا سُوًى
تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)
59قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى
موسیٰ نے کہا آپ کے لئے (مقابلے کا) دن نو روز (مقرر کیا جاتا ہے) اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکھٹے ہوجائیں
60فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَىٰ
تو فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کرکے پھر آیا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
58آیت

ترجمہ — طہ 58

سورہ طہ آیت 58 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے…

سورہ آیت 58/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 56–60. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں