طہ · 85/135
ترجمہ تلفظ — طہ
قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِن بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ۝٨٥
Qaala fa innaa qad fatannaa qawmaka mim ba`dika wa adallahumus Saamiriyy
📖 اردو ترجمہ
فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَتَنَّا: ہم نے آزمائش میں ڈالا، مبتلا کیا۔
  • مِن بَعْدِكَ: تیرے جدا ہونے کے بعد، تیرے پیچھے۔
  • أَضَلَّهُمُ: انہیں گمراہ کیا، راستے سے بھٹکایا۔
  • السَّامِرِيُّ: بنی اسرائیل کے ایک منافق شخص کا نام، جو سامرہ قبیلے سے تھا۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے الگ ہو کر کوہِ طور پر گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ تمہاری قوم نے تمہارے جانے کے بعد گمراہی اختیار کر لی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا، اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا۔"

یہ آزمائش بہت بڑی تھی—بنی اسرائیل نے اپنے زیورات جمع کر کے سامری کے کہنے پر ایک بچھڑے کا بت بنا لیا، جس سے گائے کی آواز نکلتی تھی، اور اس کی عبادت کرنے لگے۔ سامری ایک منافق شخص تھا، جو ظاہر میں ایمان لایا تھا لیکن اس کے دل میں نفاق تھا، اور اس نے اپنی مکارانہ چالوں سے پوری قوم کو گمراہ کر دیا۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے سامری کو گمراہ کرنے والا قرار دیا، کیونکہ وہ اس فتنے کا اصل سبب بنا، حالانکہ قوم نے خود بھی اس کی بات مان کر غلطی کی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گمراہی کا ذمہ دار وہی ہے جو لوگوں کو گمراہ کرے، لیکن پیروی کرنے والوں کی بھی اپنی ذمہ داری ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں! سب سے پہلے یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے تاکہ ان کا ایمان مضبوط ہو اور وہ صبر کا مظاہرہ کریں۔ دوسرے یہ کہ ہمیں اپنے دین کی حفاظت کرنی چاہیے اور کسی بھی ایسے شخص کی بات نہیں ماننی چاہیے جو ہمیں اللہ کی عبادت سے ہٹا کر کسی اور چیز کی طرف لے جائے۔ تیسرے یہ کہ منافقین ہمیشہ سے امت کے لیے خطرہ رہے ہیں، اس لیے ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے علم حاصل کرتے رہنا چاہیے۔

یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند کرے، لیکن جو لوگ آزمائش میں پھسل جاتے ہیں، وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ آئیے ہم سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ثابت قدم رہیں اور اپنے ایمان کو ہر فتنے سے بچائیں! اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 83-87 — طہ

83۞ وَمَا أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَا مُوسَىٰ
اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی
84قَالَ هُمْ أُولَاءِ عَلَىٰ أَثَرِي وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ
کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو
85قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِن بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ
فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے
86فَرَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي
اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
87قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُّ
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
85آیت

ترجمہ — طہ 85

سورہ طہ آیت 85 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش…

سورہ آیت 85/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 83–87. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں