Qaala fazhab fa inna laka fil hayaati an taqoola laa misaasa wa inna laka maw`idal lan tukhlafahoo wanzur ilaaa ilaahikal lazee zalta `alaihi `aakifaa; lanuharriqannnahoo summa lanansifanahoo fil yammi nasfaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: برو، در زندگى اين دنيا چنان شوى كه پيوسته بگويى: «به من نزديك مشو.» و نيز تو را وعدهاى است كه از آن رها نشوى و اينك به خدايت كه پيوسته عبادتش مىكردى بنگر كه مىسوزانيمش و به دريايش مىافشانيم.
(موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَا مِسَاسَ: کسی سے چھونا اور چھونا نہ ہو، یعنی لوگوں سے ملنا جلنا اور میل جول ختم ہوجائے۔
مَوْعِدًا: وعدہ کا وقت، یعنی عذاب کا وقت۔
لَّن تُخْلَفَهُ: اس سے تجھے پھیرا نہ جائے گا، یعنی یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔
ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا: تو برابر اس پر جما رہا، یعنی عبادت میں لگا رہا۔
لَنُحَرِّقَنَّهُ: ہم اسے آگ میں جلا دیں گے۔
لَنَنسِفَنَّهُ: ہم اسے ریزہ ریزہ کرکے اڑا دیں گے۔
الْيَمِّ: سمندر، دریا۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے فرمایا: "جا، تو اپنی زندگی میں اس حال میں رہے گا کہ تو کہتا رہے گا 'مجھے مت چھونا'، یعنی تو لوگوں سے الگ تھلگ اور معاشرے سے نکالا ہوا زندگی بسر کرے گا، کوئی تجھ سے میل جول نہیں رکھے گا۔ اور تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت مقرر ہے (قیامت کا دن) جس میں تجھے عذاب دیا جائے گا، اور یہ وعدہ تجھ سے ٹلنے والا نہیں، بلکہ ضرور پورا ہوگا۔" پھر موسیٰ علیہ السلام نے اس بچھڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کی تو عبادت پر جما رہا، ہم اسے آگ میں جلا دیں گے، پھر اس کی راکھ کو سمندر میں اڑا دیں گے تاکہ اس کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔"
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمیں توحید کی عظمت اور شرک کی ذلت کا سبق ملتا ہے۔ سامری نے بچھڑے کو معبود بنا کر قوم کو گمراہ کیا، لیکن اس کی سزا یہ ہوئی کہ وہ معاشرے سے نکال دیا گیا اور اس کا معبود بھی تباہ کردیا گیا۔ یہ ہمارے لیے نصیحت ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں، ان کا انجام ذلت اور رسوائی ہے۔ قرآن ہمیں بار بار توحید کی طرف بلاتا ہے، کیونکہ توحید ہی کامیابی اور نجات کی کنجی ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو شرک سے پاک کریں اور صرف اللہ کے سامنے جھکیں، جو ہمیں عزت اور سکون عطا کرے گا۔
اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا
(موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔