طہ · 96/135
ترجمہ تلفظ — طہ
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي ۝٩٦
Qaala basurtu bimaa lam yabsuroo bihee faqabadtu qabdatam min asarir Rasooli fanabaztuhaa wa kazaalika sawwalat lee nafsee
📖 اردو ترجمہ
اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَصُرْتُ: میں نے دیکھ لیا / جان لیا
  • قَبَضْتُ: میں نے مٹھی بھر لی
  • أَثَرِ الرَّسُولِ: رسول (فرشتے) کے نشانِ قدم کی مٹی
  • فَنَبَذْتُهَا: پھر میں نے اسے ڈال دیا
  • سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي: میرے نفس نے میرے لیے اسے خوشنما بنا دیا

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تجھے ایسا کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ تو اس نے جواب دیا: "میں نے وہ چیز دیکھ لی جو دوسرے لوگ نہ دیکھ سکے۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ جب بنی اسرائیل بحرِ قلزم سے نکل رہے تھے اور فرعون کا لشکر غرق ہو رہا تھا، اس وقت سامری نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ایک گھوڑے پر سوار دیکھا۔ اس نے ان کے گھوڑے کے قدموں کے نشان سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی۔

پھر اس نے اس مٹی کو اس بچھڑے پر ڈال دیا جو اس نے بنایا تھا، اور اس مٹی کی برکت سے وہ بے جان بچھڑا ایسا ہو گیا جس سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ یہ ایک آزمائش اور فتنہ تھا جس سے اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو آزماتے تھے۔

آخر میں سامری نے اعتراف کیا: "اسی طرح میرے نفس نے میرے لیے اس کام کو خوشنما بنا دیا۔" یعنی اس کی اپنی نفسِ امارہ نے اسے برائی کی ترغیب دی اور اس کے لیے اس قبیح فعل کو خوبصورت بنا کر پیش کیا۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں! سب سے پہلا سبق یہ کہ نفسِ انسانی اگر اللہ کی یاد سے غافل ہو جائے تو وہ انسان کو کس قدر گمراہ کر سکتا ہے۔ سامری نے اپنے نفس کے کہنے پر عمل کیا اور قوم کو گمراہ کر دیا۔

دوسرا سبق یہ کہ علم اور بصیرت کا صحیح استعمال ضروری ہے۔ سامری نے جو علم حاصل کیا تھا، اسے غلط جگہ استعمال کیا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے علم کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کریں، نہ کہ اپنے نفس کی خواہشات کے لیے۔

تیسرا سبق یہ کہ شیطان اور نفسِ امارہ انسان کو دھوکہ دیتے ہیں اور برے کاموں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ہر کام سے پہلے اللہ سے رجوع کرنا چاہیے اور قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں نفس کے وسوسوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!

🎧 سنیں

📜 آیت 94-98 — طہ

94قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا
95قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِيُّ
پھر (سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے؟
96قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي
اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا
97قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّن تُخْلَفَهُ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ إِلَٰهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا
(موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے
98إِنَّمَا إِلَٰهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا
تمہارا معبود خدا ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
96آیت

ترجمہ — طہ 96

سورہ طہ آیت 96 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو…

سورہ آیت 96/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 94–98. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں