اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گذر چکے ہیں۔ اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَقُصُّ: ہم بیان کرتے ہیں، سناتے ہیں۔
أَنبَاء: خبریں، واقعات۔
مَا قَدْ سَبَقَ: جو گزر چکا، پچھلی امتوں کے حالات۔
مِن لَّدُنَّا: اپنی طرف سے، اپنے پاس سے۔
ذِکْرًا: یاددہانی، نصیحت، قرآن۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! جس طرح ہم نے آپ کو موسیٰ علیہ السلام، فرعون اور ان کی قوم کے حالات سنائے، اسی طرح ہم آپ کو ان تمام امتوں اور پیغمبروں کے واقعات بھی سناتے ہیں جو آپ سے پہلے گزر چکی ہیں۔ یہ قصص محض تفریح یا افسانے نہیں، بلکہ ان میں عبرت، نصیحت اور آپ کے لیے تسلی کا سامان ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ اس لیے بیان کیا تاکہ آپ کا سینہ کھل جائے، آپ کا علم بڑھے اور آپ کو یقین ہو کہ اللہ کا دین ہمیشہ غالب رہتا ہے۔
اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے آپ کو اپنی خاص طرف سے یہ عظیم قرآن عطا کیا ہے، جو ہر اس شخص کے لیے ذریعۂ نصیحت ہے جو دل سے توجہ کرے، غور و فکر کرے اور اس پر عمل کرنا چاہے۔ یہ قرآن ایک زندہ معجزہ ہے، جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن ہمارے لیے اللہ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ جس طرح پچھلی امتوں کے حالات ہمارے لیے سبق ہیں، اسی طرح قرآن کی ہر آیت ہمارے لیے روشنی ہے۔ آئیے ہم اس کتاب کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ یہی وہ ذکر ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب کر سکتا ہے۔ اللہ نے یہ قرآن اپنی رحمت سے ہمیں عطا کیا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس کی قدر کریں اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ جو شخص قرآن سے جڑ جائے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا، اور جو اسے چھوڑ دے، وہ حقیقی نقصان میں ہے۔
(موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔