انبیاء · 49/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ وَهُم مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ ۝٤٩
Allazeena yakhshawna Rabbahum bilghaibi wa hum minas Saa`ati mushfiqoon
📖 اردو ترجمہ
جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متقیوں کی صفات بیان فرمائی ہیں، جو ہدایت کے مستحق ہیں۔

معانی الفاظ:

  • يَخْشَوْنَ: ڈرتے ہیں، خوف رکھتے ہیں
  • بِالْغَيْبِ: غیب میں، پوشیدہ طور پر، جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو
  • مُشْفِقُونَ: خوف زدہ، ڈرنے والے، گھبرائے ہوئے

تفسیر:

یہ وہ متقی لوگ ہیں جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں، یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں، جب کوئی انہیں دیکھتا نہیں، تب بھی وہ اللہ کی نافرمانی سے بچتے ہیں۔ ان کا خوف محض ظاہری نہیں، بلکہ ان کے دلوں میں اللہ کی عظمت اور جلال کا احساس رچا بسا ہوا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں، اس لیے وہ ہر حال میں اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

یہ لوگ قیامت کی گھڑی سے بھی سخت خوفزدہ رہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ دن آکر رہے گا، جب تمام اعمال کا حساب ہوگا، جب نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی۔ اس دن کی ہولناکیوں کا تصور ہی انہیں لرزا دیتا ہے، اس لیے وہ اس کی تیاری میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے اس دن کی سختیوں سے نجات کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ہدایت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے نور اور رحمت ہے۔ قرآن مجید انہیں مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اس سے ڈرو، کیونکہ یہی نجات کا راستہ ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانوں! غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے متقیوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ غیب میں یعنی خلوت میں بھی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ یہی اصل ایمان کی نشانی ہے۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہر وقت اسے دیکھ رہا ہے، اس کے دل کی بات جانتا ہے، تو وہ کبھی گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا، چاہے کوئی اسے دیکھ رہا ہو یا نہ دیکھ رہا ہو۔

آج ہم میں سے بہت سے لوگ لوگوں کے سامنے نیک بنتے ہیں، لیکن جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ یہ منافقت کی علامت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر یہ تقویٰ پیدا کریں کہ ہم اللہ سے ہر حال میں ڈریں۔ یاد رکھیں، قیامت کا دن ضرور آنے والا ہے، اور اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اس لیے آج ہی سے توبہ کریں، اپنے اعمال سنواریں، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاریں تاکہ اس دن ہم کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 47-51 — انبیاء

47وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ
اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں
48وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے
49الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ وَهُم مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ
جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں
50وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ ۚ أَفَأَنتُمْ لَهُ مُنكِرُونَ
یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟
51۞ وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
49آیت

ترجمہ — انبیاء 49

سورہ انبیاء آیت 49 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت…

سورہ آیت 49/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں