ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُذْعِنِینَ: اطاعت کرنے والے، جھک جانے والے، فرمانبردار۔
تفسیر:
یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو جب کوئی جھگڑا یا مقدمہ پیش آتا تو رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں آنے سے گریز کرتے تھے، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ حق کا فیصلہ کریں گے اور ان کی غلطی ظاہر ہو جائے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اس رویے کو بے نقاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر حق ان کے موافق ہوتا اور فیصلہ ان کے حق میں جانے والا ہوتا، تو وہ بڑی تیزی اور عاجزی کے ساتھ آپ ﷺ کی عدالت میں حاضر ہو جاتے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ آپ ﷺ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہمیشہ حق پر مبنی ہوتا تھا، چاہے وہ کسی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ منافقین کا یہ طرز عمل ان کے ایمان کی کمزوری اور نفاق کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ سچا مومن وہ ہے جو حق کو قبول کرے چاہے وہ اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو ہر معاملے میں حق کو ترجیح دے، چاہے وہ اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں بھی رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور ان کے فیصلوں کو معیار بنائیں، اور کسی بھی جھگڑے میں حق کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں منافقانہ رویے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 47-51 — نور
ترجمہ — نور 49
سورہ نور آیت 49 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو…سورہ آیت 49/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








