کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَرَضٌ: نفاق اور دلی کی بیماری۔
ارْتَابُوا: شک کیا۔
یَحِیفَ: ظلم کرے، حق سے پھر جائے، میل کھائے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان منافقوں کے بارے میں سخت گیر سوالات فرما رہے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو قبول کرنے سے بھاگتے تھے اور اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: کیا ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے؟ یا انہیں رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر شک ہے؟ یا وہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے اور فیصلے میں حق سے میل نہ کھائیں گے؟
یہ تینوں سوال دراصل ان کے طرزِ عمل کی برائی کو ظاہر کرنے کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ہی جواب دیتا ہے: ہرگز نہیں! یہ لوگ ظالم ہیں، ان کا انکارِ حق اور فیصلہِ الٰہی سے بھاگنا ان کے اپنے ظلم کی وجہ سے ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ہمیشہ حق اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں کبر، حسد اور دنیا کی محبت نے انہیں اندھا کر دیا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہمیشہ ہمارے بہترین مفاد میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ وہ تو رحم کرنے والا ہے۔ جب ہم اپنے معاملات کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالے کر دیتے ہیں تو ہمیں سکون اور برکت ملتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ کے حکم کو سب سے پہلے رکھیں، چاہے وہ ہماری خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یاد رکھیں! اللہ کا فیصلہ ہمیشہ بہترین ہوتا ہے، اور جو لوگ اسے قبول کرتے ہیں وہی حقیقی کامیاب ہیں۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو نفاق اور شک سے پاک کریں اور اللہ کے احکام کو خوشی سے قبول کریں۔
مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔