ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ: اس پر بری بارش برسائی گئی، یعنی پتھروں کی بارش۔
- لَا يَرْجُونَ نُشُورًا: وہ دوبارہ اٹھائے جانے (قیامت) کی امید نہیں رکھتے، یعنی اس پر یقین نہیں رکھتے۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان کفارِ مکہ کو ان کی سرکشی اور عبرت نہ لینے پر ملامت فرما رہا ہے۔ یہ لوگ اپنی تجارتی سفروں میں شام کی طرف جاتے ہوئے اس بستی (سدوم) کے پاس سے گزرتے تھے جو قومِ لوط کی بستی تھی۔ اس بستی پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا، ان پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسائی گئی تھی، اور انہیں الٹ دیا گیا تھا۔ یہ منظر ان کی آنکھوں کے سامنے تھا، وہ اس کے کھنڈرات دیکھتے تھے، مگر پھر بھی وہ عبرت حاصل نہیں کرتے تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان تباہ شدہ بستیوں کو نہیں دیکھتے تھے؟ کیوں نہیں، وہ دیکھتے تھے، لیکن ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی۔ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے، انہیں دوبارہ اٹھائے جانے کا کوئی خوف یا امید نہیں تھی۔ اگر وہ قیامت پر یقین رکھتے تو یقیناً ان تباہ شدہ بستیوں سے عبرت پکڑتے اور اپنے انجام سے ڈرتے۔
یہ آیت ہمارے لیے بھی ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے عذابوں کی نشانیاں دیکھتے ہیں، تاریخ میں قوموں کے انجام کو پڑھتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں؟ کیا ہم قیامت کے دن کے حساب کا خوف رکھتے ہیں؟ اگر ہمارے دلوں میں آخرت کا یقین ہو تو ہم گناہوں سے بچیں گے، نیکیوں کی طرف بڑھیں گے، اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں میں آخرت کا یقین اور خوف پیدا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 38-42 — فرقان
ترجمہ — فرقان 40
سورہ فرقان آیت 40 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں…سورہ آیت 40/77 — فرقان الفرقان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فرقان سنیں, فرقان ترجمہ, فرقان mp3, فرقان pdf. آیت 38–42. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








