ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آیت: علامت، دلیل، نشانی
- یعلمہ: اسے جانتے ہیں
- علماء بنی اسرائیل: بنی اسرائیل کے علماء، اہل کتاب کے جانکار
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان کفارِ مکہ سے استفہامِ انکاری کے انداز میں فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں کے لیے یہ بات کوئی نشانی اور دلیل نہیں کہ بنی اسرائیل کے علماء (جو پہلی آسمانی کتابوں کے جانکار تھے) اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی ہیں اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے؟
یہ علماء اپنی کتابوں (تورات اور انجیل) میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی پیشگوئیوں سے واقف تھے۔ جب ان میں سے کچھ لوگ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی اور ایمان لائے، تو یہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ آپ کی نبوت کا ذکر پہلی آسمانی کتابوں میں موجود تھا۔
یہ آیت ان لوگوں کے لیے ایک بڑی دلیل ہے جو حق کو پہچاننے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ جب اہل کتاب کے علماء، جو پہلے سے نبی کے آنے کی خبر رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتے ہیں، تو یہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ یہ دین حق ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی پہچان کے لیے دل کھلا رکھنا چاہیے۔ جب اہل کتاب کے علماء، جو پہلی کتابوں کے ماہر تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی دیتے ہیں، تو یہ ہمارے لیے ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ آج بھی جو لوگ سچے دل سے حق کی تلاش میں ہیں، وہ قرآن اور سنت میں وہی نور پاتے ہیں جو پہلے آسمانی کتابوں میں تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے اور قرآن کو ہمارے دلوں کی روشنی بنائے۔ آمین۔
📜 آیت 195-199 — شعراء
ترجمہ — شعراء 197
سورہ شعراء آیت 197 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے…سورہ آیت 197/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 195–199. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








