ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نَزَّلْنَا: ہم نے اتارا۔
- بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ: بعض غیر عرب لوگوں پر، یعنی وہ لوگ جو عربی زبان نہیں بولتے۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تسلی اور اہلِ مکہ کے لیے ایک حجت بیان فرما رہے ہیں۔ فرمایا: اگر ہم یہ قرآن کسی غیر عرب شخص پر نازل کرتے، جو عربی زبان سے واقف نہ ہوتا، اور وہ اسے کفارِ قریش کو پڑھ کر سناتا، تو بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے اور اپنے انکار کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر لیتے۔
یہ دراصل ان لوگوں کی سرکشی اور ضد کا بیان ہے جو حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، چاہے حق ان کے سامنے کسی بھی صورت میں پیش کیا جائے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ قرآن کسی معزز شخص پر کیوں نہیں اتارا گیا؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ یہ اعتراض اصل میں ان کے دلوں کی بیماری ہے، ورنہ حق تو حق ہوتا ہے، چاہے وہ کسی کے ذریعے آئے۔
یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن کی عظمت اور فصاحت کا معجزہ یہ ہے کہ یہ عربی زبان میں نازل ہوا، اور اس کے باوجود عرب خود اس کے مقابلے میں عاجز آگئے۔ اگر یہ کسی غیر عرب پر نازل ہوتا، تو لوگ کہتے کہ یہ عربی نہیں جانتا، اس لیے اس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔ مگر اللہ نے اسے عربی میں اتار کر ان کے تمام بہانے بند کر دیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کو قبول کرنے کے لیے دل کا کھلا ہونا ضروری ہے۔ جو شخص حق طلب ہوتا ہے، اللہ اسے ہدایت دیتا ہے، چاہے حق اسے کسی بھی ذریعے سے ملے۔ لیکن جو شخص ضد اور تکبر پر اڑا ہو، اس کے لیے کوئی معجزہ بھی کافی نہیں ہوتا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو تعصب اور ضد سے پاک رکھیں، اور جب بھی حق سامنے آئے، اسے کھلے دل سے قبول کریں۔ قرآن ہمارے لیے ہدایت اور رحمت ہے، اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 196-200 — شعراء
ترجمہ — شعراء 198
سورہ شعراء آیت 198 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر…سورہ آیت 198/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 196–200. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








