ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُبِین: واضح، روشن، جو صداقت کو ظاہر کرنے والا ہو۔
تفسیر آیت:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے اس اندیشناک اور دھمکی آمیز قول کے جواب میں، جب فرعون نے کہا تھا کہ "اگر تو نے میرے سوا کوئی معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دوں گا"، یہ کہا: "کیا تو مجھے قید کر دے گا، چاہے میں تیرے پاس کوئی واضح اور روشن دلیل بھی لے آؤں؟"
یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے یہ سوال کیا کہ کیا تیرا فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہے؟ کیا تو میرے دلائل سننے سے پہلے ہی مجھے سزا دینے پر آمادہ ہے؟ اگر میں تیرے پاس کوئی ایسی روشن دلیل لاؤں جو میری صداقت کو ثابت کر دے، تو بھی تو مجھے قید کرے گا؟ یہ دراصل فرعون کی ظالمانہ روش اور اس کی ہٹ دھرمی کو بے نقاب کرنے والا سوال تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ انداز بڑا ہی حکمت بھرا تھا۔ انہوں نے فرعون کو یہ باور کرایا کہ حق اور صداقت کی راہ میں کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے، اور جو شخص سچائی پر ہو اسے کسی ظالم کی دھمکیوں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ یہ ایک مومن کا وہ کردار ہے جو ہر دور میں مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کا علمبردار کبھی ظلم اور جبر سے نہیں ڈرتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے طاقتور بادشاہ کے سامنے نہ صرف اپنا موقف مضبوطی سے پیش کیا بلکہ اسے یہ بھی سمجھایا کہ حق کی راہ میں قید و بند کی دھمکیاں بے معنی ہیں۔ آج بھی جب کوئی شخص سچائی پر قائم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ ہمیں بھی اپنے ایمان اور سچائی پر ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 28-32 — شعراء
ترجمہ — شعراء 30
سورہ شعراء آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز…سورہ آیت 30/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








