ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَأْتِ بِهِ: اسے لے آؤ، اسے پیش کرو۔
- الصَّادِقِينَ: سچ بولنے والوں میں سے۔
تفسیرِ آیت:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو بتایا کہ وہ رب العالمین کا رسول ہے اور اس کے پاس اپنی صداقت کا واضح ثبوت بھی ہے، تو فرعون نے اپنی سرکشی اور ضد کی بنا پر کہا: ”اگر تم سچے ہو تو پھر اپنا وہ معجزہ لے آؤ جو تمہارے دعوے کی تصدیق کرتا ہو۔“ فرعون کا یہ انداز دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلانے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے تھا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ موسیٰ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تائید کرے گا اور وہ معجزہ پیش کرے گا جو فرعون کے سامنے اس کی صداقت کو ثابت کر دے گا۔
یہاں فرعون کا یہ مطالبہ دراصل اس کی جہالت اور تکبر کا مظہر تھا، کیونکہ وہ حق کو ماننے کے بجائے حجت بازی اور بحث میں الجھ رہا تھا۔ وہ یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ ”اگر تم سچے ہو تو میں ایمان لاؤں گا“، بلکہ وہ محض اس لیے مطالبہ کر رہا تھا تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو عاجز کر سکے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور وہ معجزہ پیش کیا جس نے فرعون اور اس کے درباریوں کو حیران کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو ہمیشہ اپنی صداقت پر یقین رکھنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے ظالم بادشاہ کے سامنے بھی پوری جرأت سے حق پیش کیا اور اللہ پر بھروسہ کیا۔ ہمیں بھی اپنے ایمان اور دعوتِ حق میں ثابت قدم رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندوں کی ہمیشہ مدد فرماتا ہے۔ جب انسان اللہ پر توکل کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ فرعون کا انجام عبرتناک تھا، اور ہر ظالم کا انجام بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جبکہ حق کے داعی کو اللہ کی طرف سے عزت اور کامیابی ملتی ہے۔
📜 آیت 29-33 — شعراء
ترجمہ — شعراء 31
سورہ شعراء آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)سورہ آیت 31/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








