قصص · 27/88
ترجمہ تلفظ — قصص
قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ۝٢٧
Qaala innee ureedu an unkihaka ihdab nataiya haataini `alaaa an taajuranee samaaniya hijaj; fa in atmamta `ashran famin `indika wa maaa ureedu an ashuqqa `alaik; satajiduneee in shaaa`al laahu minas saaliheen
📖 اردو ترجمہ
اُنہوں نے (موسٰی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس عہد پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کر دو تو تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا۔ مجھے انشاء الله نیک لوگوں میں پاؤ گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُنكِحَكَ: تمہارا نکاح کروں، تمہیں شادی کے بندھن میں باندھ دوں۔
  • تَأْجُرَنِي: تم میرے لیے کام کرو، میری خدمت کرو (یہاں اجرت پر کام کرنے کے معنی میں
  • حِجَجٍ: حِجَّة کی جمع، جس کا مطلب ہے سال، یعنی آٹھ سال۔
  • أَتْمَمْتَ عَشْرًا: تم نے دس سال مکمل کر لیے۔
  • أَشُقَّ عَلَيْكَ: تم پر مشقت ڈالوں، تمہیں تکلیف دوں۔

تفسیر:

یہ وہ مبارک لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایک نیک گھرانے کی پناہ عطا فرمائی۔ اس نیک بزرگ (شعیب علیہ السلام) نے موسیٰ علیہ السلام کی دیانت، سچائی اور مضبوطی کو دیکھ کر انہیں اپنی دامادی کی پیشکش کی۔ انہوں نے فرمایا: "میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کر دوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میرے لیے کام کرو (بھیڑ بکریاں چراؤ)۔ اگر تم دس سال مکمل کر لو تو یہ تمہاری طرف سے احسان ہوگا، میں تم پر کوئی سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں سے پاؤ گے جو وعدہ پورا کرتے ہیں اور اچھی صحبت رکھتے ہیں۔"

یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں محنت، دیانت اور عزت کا پہلو تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسے قبول کیا اور اپنے رب سے دعا کی کہ جو بھی خیر مجھے عطا فرمائے، وہی میرے لیے کافی ہے۔ اس واقعے سے ہمیں بہت سی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:

پہلی بات: نکاح کے لیے دنیاوی دولت یا بڑا مہر ضروری نہیں، بلکہ اچھا کردار، دیانت اور محنت بھی ایک بہترین سرمایہ ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی محنت اور سچائی کے بل بوتے پر ایک باعزت زندگی حاصل کی۔

دوسری بات: معاہدے میں وضاحت اور نرمی ہونی چاہیے۔ شعیب علیہ السلام نے واضح کیا کہ آٹھ سال فرض ہے، دس سال تمہاری مرضی اور احسان ہے، میں تم پر سختی نہیں کروں گا۔ یہ ایک اخلاقی اور منصفانہ رویہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں پر بوجھ نہ ڈالیں۔

تیسری بات: نیک لوگوں کی صحبت اور ان کے ساتھ معاہدہ کرنا برکت کا باعث ہوتا ہے۔ شعیب علیہ السلام نے وعدہ کیا کہ وہ نیک ساتھی ثابت ہوں گے، اور وہ واقعی ایسے ہی تھے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں عزت دیتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام ایک غریب اور تنہا مسافر تھے، لیکن ان کی سچائی اور محنت نے انہیں ایک باعزت مقام دیا۔ آج ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سچائی، دیانت اور محنت کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ یہی وہ خوبیاں ہیں جو انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 25-29 — قصص

25فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو
26قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
ایک لڑکی بولی کہ ابّا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانت دار (ہو)
27قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
اُنہوں نے (موسٰی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس عہد پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کر دو تو تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا۔ مجھے انشاء الله نیک لوگوں میں پاؤ گے
28قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ ۖ وَاللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
موسٰی نے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے
29۞ فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِن جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
جب موسٰی نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھیرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے (رستے کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
27آیت

ترجمہ — قصص 27

سورہ قصص آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اُنہوں نے (موسٰی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں اپنی…

سورہ آیت 27/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں