قصص · 28/88
ترجمہ تلفظ — قصص
قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ ۖ وَاللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ۝٢٨
Qaala zaalika bainee wa bainaka aiyamal ajalaini qadaitu falaa `udwaana `alaiya wallaahu `alaa ma naqoolu Wakeel
📖 اردو ترجمہ
موسٰی نے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ: ان دو مدتوں میں سے جو بھی (آٹھ سال یا دس سال)
  • قَضَيْتُ: میں پوری کر لوں
  • فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ: مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو، یعنی مجھ سے زیادہ کا مطالبہ نہ کیا جائے
  • وَكِيلٌ: نگہبان، گواہ اور کفیل

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نیک بزرگ (حضرت شعیب علیہ السلام) کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا: "یہ معاہدہ جو ہم نے کیا ہے، یہ میرے اور آپ کے درمیان طے شدہ ہے، اور میں اس پر قائم رہوں گا۔"

پھر انہوں نے وضاحت کی کہ ان دو مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کر دوں — چاہے آٹھ سال ہوں یا دس سال — میں نے اپنا فرض ادا کر دیا، اور مجھ پر کوئی زیادتی نہ کی جائے، نہ مجھ سے اس سے زیادہ کام لیا جائے۔ یعنی جو مدت بھی طے ہوئی ہے، اس پر میں عمل کروں گا اور اس سے تجاوز نہیں کروں گا، اور آپ بھی مجھ سے اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کریں۔

آخر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ اور نگہبان ہے جو ہم کہہ رہے ہیں۔" یعنی ہمارا یہ معاہدہ اللہ کی نگرانی میں ہے، وہ ہماری باتوں کو سن رہا ہے اور ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے، اور وہی اس معاہدے کا ضامن اور گواہ ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے قیمتی اسباق ملتے ہیں:

  1. معاہدے کی پاسداری: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ طرز عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک مومن کو اپنے وعدوں اور معاہدوں کا پابند ہونا چاہیے۔ چاہے معاہدہ کسی سے بھی ہو، اسے نبھانا ضروری ہے۔
  2. نرمی اور سخاوت: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے جو بھی پوری کر دیں، وہ قبول ہے۔ یہ ان کی سخاوت اور نرمی کو ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے لیے آسانی پیدا کی اور دوسرے کو بھی اختیار دیا۔
  3. اللہ پر بھروسہ: ہر معاملے میں اللہ کو گواہ اور نگہبان بنانا مومن کی پہچان ہے۔ جب ہم اپنے معاملات میں اللہ کو حاضر و ناظر جانیں گے، تو ہم دیانت داری اور ایمانداری سے کام کریں گے۔
  4. محنت اور روزگار: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی محنت سے روزگار کمایا اور اپنے وعدے کو پورا کیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حلال روزگار کمانا اور محنت کرنا باعث برکت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وعدوں کا پابند بنائے، حلال روزگار میں برکت عطا فرمائے، اور ہر معاملے میں اپنے اوپر بھروسہ کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 26-30 — قصص

26قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
ایک لڑکی بولی کہ ابّا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانت دار (ہو)
27قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
اُنہوں نے (موسٰی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس عہد پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کر دو تو تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا۔ مجھے انشاء الله نیک لوگوں میں پاؤ گے
28قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ ۖ وَاللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
موسٰی نے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے
29۞ فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِن جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّي آتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
جب موسٰی نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھیرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے (رستے کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو
30فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسٰی میں تو خدائے رب العالمین ہوں
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
28آیت

ترجمہ — قصص 28

سورہ قصص آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : موسٰی نے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں یہ…

سورہ آیت 28/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں