آل عمران · 140/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ۝١٤٠
Iny-yamsaskum qarhum faqad massal qawma qarhum misluh; wa tilkal ayyaamu nudaawiluhaa bainan naasi wa liya`lamal laahul lazeena aamanoo wa yattakhiza minkum shuhadaaa`; wallaahu laa yuh ibbuz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قَرْحٌ: زخم، چوٹ، یا شہید ہونے کا درد۔
  • مَسَّ: چھونا، پہنچنا۔
  • نُدَاوِلُهَا: ہم اسے باری باری دیتے ہیں، یعنی ایک بار ایک کو اور دوسری بار دوسرے کو۔
  • شُهَدَاءَ: شہید، جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں۔

تفسیر:

اے ایمان والو! اگر احد کی جنگ میں تمہیں زخم پہنچے یا تم میں سے کچھ لوگ شہید ہوئے، تو تم غمگین نہ ہو، کیونکہ بدر کی جنگ میں تمہارے دشمنوں (کفار) کو بھی اسی طرح کے زخم اور نقصان پہنچ چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت سے دنوں کو لوگوں کے درمیان باری باری گھماتا ہے، کبھی ایک فریق کو کامیابی دیتا ہے اور کبھی دوسرے کو۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علمِ ازلی کے مطابق سچے مومنوں کو منافقوں سے الگ کر کے ظاہر کرے، اور تم میں سے بعض کو شہادت کا اعلیٰ مرتبہ عطا فرمائے۔ شہادت اللہ کے نزدیک بہت بڑی نعمت ہے، جس سے وہ اپنے برگزیدہ بندوں کو نوازتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت نہیں کرتا جو اپنے اوپر ظلم کریں، یعنی جو جہاد اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے پیچھے رہ جائیں۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مصائب اور تکالیف صرف ہمارے لیے نہیں آتیں، بلکہ یہ اللہ کی سنت ہے جو سب لوگوں پر گزرتی ہے۔ جب ہم پر کوئی مصیبت آئے تو ہمیں صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے۔ شہادت کا مرتبہ بہت بلند ہے، اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قربانی دیتے ہیں، اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ کی راہ میں نکلنے سے کبھی پیچھے نہ ہٹیں، اور یاد رکھیں کہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، لیکن صبر کرنے والوں اور نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ یہی راستہ کامیابی کا راستہ ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 138-142 — آل عمران

138هَٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ
یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے
139وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے
140إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا
141وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ
اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے
142أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
140آیت

ترجمہ — آل عمران 140

سورہ آل عمران آیت 140 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو…

سورہ آیت 140/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 138–142. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں